عراقی شہر موصل کو دولت اسلامیہ سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا ہے کہ موصل سے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ختم کروانے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ ہے اور اس کے شدت پسندوں نے سنہ 2014 میں شہر پر قبضہ کیا تھا۔

٭ موصل میں دولتِ اسلامیہ کےخوف میں زندگی

٭ موصل میں 'روزمرہ کی زندگی دولتِ اسلامیہ کے شکنجے میں'

موصل ہی میں دولت اسلامیہ کے رہنما ابو بکر البغدادی نے عراق اور شام میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔

موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور پیر کی صبح عراقی توپخانے نے موصل پر گولہ باری کا آغاز کیا جس کے ساتھ ہی اس جنگ کا آغاز ہوگیا۔

جس میں عراقی اور اتحادی افواج اور کرد پیشمرگاہ کے 30 ہزار جوان حصہ لے رہے ہیں۔

گولہ باری کے ساتھ ساتھ ٹینکوں نے بھی موصل کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

موصل میں کارروائی کے آغاز پر اقوامِ متحدہ نے شہر میں محصور 15 لاکھ افراد کے تحفظ کے حوالے سے 'شدید خدشات' کا اظہار کیا ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ موصل پر عراقی افواج کا دوبارہ قبضہ ہونا درحقیقت عراق میں دولتِ اسلامیہ کی مکمل شکست کے مترادف ہوگا۔

اس کارروائی میں مدد کرنے والے امریکی کمانڈر جنرل سٹیفن ٹاؤنسینڈ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ مشکل ہوگی اور اس کی تکمیل میں کئی ہفتے لگیں گے۔

عراقی وزیر اعظم نے فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا 'فتح کا وقت آ گیا ہے اور موصل کو آزاد کرانے کا وقت آ گیا ہے۔ آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آپریشن کا آغاز ہو گیا ہے تاکہ آپ کو داعش کے تشدد اور دہشت گردی سے آزاد کرایا جا سکے۔'

انھوں نے کہا کہ 'انشاءاللہ ہم لوگ موصل میں ملیں گے اور دولت اسلامیہ سے آپ کی نجات کا جشن منائیں گے تاکہ ہم لوگ ایک بار پھر سے مل جل کر ساتھ رہ سکیں۔ ہم اپنے محبوب شہر موصل کی تعمیر نو کے لیے داعش کو تمام مذاہب مل کر شکست دیں گے۔'

اقوام متحدہ نے موصل میں لڑائی کے حوالے سے کہا تھا کہ اس سے شہریوں پر بہت بڑے پیمانے پر اثر پڑے گا اور ایک اندازے کے مطابق موصل اور اس کے گردو نواح میں رہنے والے 15 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ موصل میں جب معرکہ شروع ہوگا تو شہر کے جنوب سے چار لاکھ افراد نقل مکانی کریں گے اور مشرق سے تقریباً ڈھائی لاکھ اور شمالی مغرب سے ایک لاکھ افراد نقل مکانی کریں گے۔

بریگیڈیئر جنرل حیدر فاضل نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موصل پر سے دولت اسلامیہ کا کنٹرول ختم کرانے کے آپریشن میں 25 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں امریکی سفارتکار بریٹ میک گرک نے ٹویٹر میں کہا 'اس تاریخی آپریشن میں عراق کے ساتھ کھڑا ہونا فخر کی بات ہے۔'

آپریشن کے آغاز سے قبل ہزاروں پمفلیٹ موصل میں گرائے گئے جس میں آپریشن کے آغاز کی وارننگ دی گئی تھی۔

اگرچہ یہ نہیں معلوم کہ موصل میں کتنے شہری موجود ہیں تاہم جب موصل پر دو سال قبل دولت اسلامیہ نے قبضے کیا تھا تو اس وقت دو لاکھ شہری شہر میں موجود تھے۔

پناہ گزین سے متعلق اقوام متحدہ کے اداے یو این ایچ سی آر کے ترجمان ادران ایڈورڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس معرکے سے شدید انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

سنہ 2014 میں عراق کے مختلف علاقوں پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد 33 لاکھ 80 ہزار افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2003 میں عراق میں امریکی افواج کی مداخلت کے بعد فرقہ ورانہ فسادات بڑھنے سے دس لاکھ عراقیوں نے نقل مکانی کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں