احتجاج کی فلمبندی پر ایمی گوڈمین کو بلوے کے الزام کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صحافی ایمی گوڈ مین کو امریکہ کے مقامی باشندوں ’امریکن انڈین‘ کے احتجاج کی فلم بنانے پر حکام کی جانب سے بلوا کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔

ایمی گوڈ مین ایک آزاد صحافی ہیں اور ’ڈیمو کریسی ناؤ‘ کے نام سے انڑنیٹ پر خبروں کا پروگرام پیش کرتی ہیں۔

صحافی کا کہنا ہے کہ وہ پیر کو خود کو حکام کے حوالے کردیں گی۔ جس کے بعد مقامی جج یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا صحافی پر لگائے جانے والا الزام درست ہے یا نہیں۔

ایمی گوڈ مین نے گزشتہ ماہ امریکی ریاست نارتھ ڈیکوٹا میں امریکی انڈینز کی جانب سے ایک تیل کی پائپ لائن کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی فلم بنائی تھی۔

ایمی کے بقول ’ میں کسی جگہ بھی غیر قانونی طور پر داخل نہیں ہوئی، میں ہنگامہ آرائی میں شامل نہیں تھی، میں بحثیت صحافی امریکی انڈینز پر ہونے والے ظالمانہ حملے کی فلم بنا کر اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔‘

خیال رہے کہ امریکی ریاست نارتھ ڈیکوٹا میں تیل کی پائپ لائن کے ایک منصوبے کے خلاف مقامی امریکی باشندے احتجاج کر رہے ہیں۔

چار امریکی ریاستوں سے گزرنے والی اس پائپ لائن کے منصوبے پر بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی انڈینز کا موقف ہے کہ اس پائپ لائن سے ماحول پر منفی اثر پڑے گا اور یہ ان کی مقدس زمین کی بے حرمتی کا باعث بھی بنے گی۔

اس سے قبل امریکی اداکارہ شلین ووڈلی کو بھی اس حوالے سے ہونے والے ایک احتجاج کی فلم بنانے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔