’یورپی یونین کو جہادیوں کی بڑی تعداد کی آمد کے لیے تیار رہنا چاہیے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عراقی اور اتحادی افواج کی عراق کے دوسرے بڑے شہر اور ملک میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے آخری گڑھ موصل کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔

یورپی یونین کے سکیورٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے عراق میں آخری گڑھ سمجھے جانے والے شہر موصل پر فوج کے دوبارہ قبضے کی صورت میں یورپی یونین کو جہادیوں کی بڑی تعداد میں یورپ آمد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

دوسری جانب حکومتی افواج اور ان کے اتحادیوں کی موصل کی جانب پیش قدمی دوسرے دن بھی جاری ہے۔

٭ عراقی فوج کی موصل کی جانب ’توقع سے تیز‘ پیش قدمی

٭ موصل میں ’روزمرہ کی زندگی دولتِ اسلامیہ کے شکنجے میں

جولین کنگ نے ایک جرمن اخبار کو بتایا کہ شدت پسندوں کی ایک قلیل تعداد بھی ایک خطرہ ثابت ہو سکتی ہے اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

عراقی فوج نے پیر کے روز موصل پر حملے کا آغاز کیا ہے جو امید کی جا رہی ہے کہ ایک طویل معرکہ ثابت ہو گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے پانچ ہزار سے زائد جنگجو موصل میں موجود ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے منگل کے روز خدشہ ظاہر کیا ہے کہ’ آنے والے دنوں میں جنگجو عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ ان کے درمیان چھپ سکتے ہیں، شہر سے فرار ہو سکتے ہیں یا پھر ان کو شہر چھوڑنے سے روک سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوامِ متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ اس حملے کا نتیجہ حالیہ سالوں کی بدترین نقل مکانی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کو خطرہ ہے کہ اس حملے کی وجہ سے دس لاکھ عام شہری اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی کیرولائن گلک کے مطابق موصل کے باہر اقوام متحدہ کے کیمپوں میں پہلے ہی ایک لاھ 30 ہزار پناہ گزین موجود ہیں اور امدادی کارکن 8 لاکھ سے زائد نئے پناہ گزینوں کی آمد کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراقی فوج نے شہر کو چھوڑنے والے عام شہریوں کی جانچ پڑتال کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ شدت پسند ان میں نہ چھپے ہوئے ہوں۔

دوسری جانب عراق میں حکومتی افواج اور ان کے اتحادیوں کی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ملک میں آخری گڑھ سمجھے جانے والے شہر موصل کی جانب پیش قدمی دوسرے دن بھی جاری ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ موصل کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کی لڑائی کے آغاز کے پہلے روز عراقی فوج نے توقعات سے تیز پیش قدمی کی ہے۔

تاہم پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کُک نے خبردار کیا کہ اس کارروائی میں 'وقت لگ سکتا ہے،' اور یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا دولتِ اسلامیہ 'مقابلہ کرے گی یا نہیں۔'

پیر سے شروع ہونے والی اس کارروائی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب بھی جنگ جاری رہی اور شدت پسندوں نے عراقی فوج کے ٹینکوں کو نشانہ بھی بنایا ہے۔

عراقی افواج کے ہمراہ موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج موصل کے جنوبی مضافات سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

اسی بارے میں