سعودی بلاگرکو پھر سےکوڑے مارنے کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ Family Handout

سزا یافتہ سعودی بلاگر رائف بداوی کےحمایتیوں نے ان خبروں پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق ان کو مزید کوڑے مارے جائیں گے۔

کینیڈا کی وہ تنظیم جو بداوی کی رہائی کے لیے مہم چلا رہی ہے کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق مزید کوڑے کسی وقت بھی مارے جا سکتے ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز کا جنھوں نے بداوی کو 2015 میں ایوارڈ دیا تھا، کہنا کہنا ہے کہ وہ اس خبر سے پریشان اور افسردہ ہیں۔

خیال رہے کہ رائف بداوی کو 'توہین اسلام' کے جرم میں دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

'دی سخاروف' ایوارڈ یورپی پارلیمان کی جانب سے سنہ 1988 سے انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے افراد اور تنظیمیں کو دیا جا رہا ہے۔

یہ ایوارڈ سوویت سائنس دان آندری سخاروف کے نام سے منسوب ہے۔

خیال رہے کہ رائف بداوی 'فری سعودی لبرلز' ویب سائٹ کے بانی ہیں، اور انھیں سنہ 2012 میں اسلام کی مبینہ توہین کرنے کا مجرم ٹھہراتے ہوئے ایک لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

انھیں رواں برس کے آغاز میں جدہ کی ایک مسجد کے باہر 50 کوڑے مارے گئے تاہم بعد میں کوڑے مارنے کا عمل روک دیا گیا تھا۔

رائف بداوی فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی حکومت بداوی کو کوڑے مارنے کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے والی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ذرائع وہی ہیں جنھوں نے پہلے کوڑے مارنے کے حوالے سے خبر دی تھی۔

بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر تین بچوں سمیت 2012 میں شوہر پر ہونے والے حملے کے بعد کینیڈا چلی گئی تھیں۔ اس خبر پر ان کا کہنا تھا 'میں اس خبر سے بہت پریشان ہوں۔ میں پریشان اور خوفزدہ ہوں کہ وہ کوڑے ماریں گے۔'

انھوں نے مزید کہا 'مجھے بداوی کی صحت کی فکر ہے جو اچھی نہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ سعودی حکومت مزید کوڑے مارنے کی سزا پر عملدرآمد نہیں کرے گی۔ میں امید کرتی ہوں سعودی عرب بداوی کی شہریت ختم کر کے کینیڈا بھیج دے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں