26 یرغمالی پانچ سال بعد صومالی قزاقوں کی قید سے رہا

صومالی قزاق تصویر کے کاپی رائٹ MOHAMED DAHIR
Image caption حالیہ برسوں میں بحری قزاقی میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے

صومالی قزاقوں نے 26 افراد کو تقریباً پانچ برس تک یرغمال بنائے رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

ایک بین الاقوامی ثالث نے ان 26 افراد کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

یہ افراد مارچ سنہ 2012 میں قبضے میں لیے گئے ایک بحری جہاز پر سوار تھے۔

صومالی ساحل کے قریب اس جہاز کو گھیرا گیا اور اسے سمندر میں ڈبو دیا گیا۔ اس پر سوار عملے کو بعد ازاں ساحل پر لا کر جنگلوں میں رکھا گیا۔

رہا ہونے والے ان افراد کا تعلق مشرقی ایشیائی ممالک سے ہے۔

یہ افراد ان آخری باقی رہ جانے والے یرغمالیوں میں سے ہیں جنہیں سنہ 2000 کی دہائی کے وسط میں اغوا کیا گیا تھا۔

حالیہ برسوں میں بحری قزاقی میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔

رہا ہونے والے 26 افراد کا تعلق کمبوڈیا، چین، تائیوان، انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام سے ہے۔

یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے اہلکار جان سٹیڈ کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے یرغمالیوں کی صحت سے متعلق معلومات ان تصاویر تک محدود ہیں جو ان کے زندہ ہونے کے ثبوت کے طور پر فراہم کی گئی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا جب تک ہم خود انہیں جا کر لے نہیں آتے تب تک ان کی صحت کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

انھوں نہ بتایا ’تصاویر میں یہ لوگ کافی برے حال میں اور کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد کا طبی معائنہ ہونا ہے کیونکہ وہ بیمار ہیں۔‘

اس رہائی کے عوض کسی قسم کی رقم ادا کیے جانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں بتا سکتے۔ تاہم انھوں نے بتایا کے مقامی لوگوں اور عمائدین کی مدد سے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے گئے۔

اسی بارے میں