انبار میں داعش کا حملہ ’پسپا‘، پیش مرگہ کا بعشیقہ پر حملہ

موصل تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عراق میں حکومتی افواج کا کہنا ہے کہ مغربی صوبے انبار کے قصبے رطبہ میں ’حالات کنٹرول میں ہیں‘ جبکہ کرد پیش مرگہ نے موصل میں دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقے بعشیقہ میں حملے کیے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے موصل میں جاری آپریشن سے حکومتی توجہ ہٹانے کے لیے مغربی صوبے انبار میں تازہ حملے کیے تھے۔

رطبہ قصبے کے میئر نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے اُن کے علاقے میں تین جانب سے ’خطرناک‘ حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب کرد پیش مرگہ نے موصل میں دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقے بعشیقہ میں حملے کیے ہیں۔ کرد پیش مرگہ کے کمانڈروں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور مرکزی شاہراہ کے اہم حصہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے دولتِ اسلامیہ کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل حکومت اور کرد افواج نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے مشترکہ آپریشن شروع کیا تھا۔

کرد افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کی صبح دولتِ اسلامیہ کے علاقے میں حملے کیے ہیں۔

رطبہ کے میئر نے عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی سے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید نفری بھجوانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے رطبہ پر قبضہ کیا تھا لیکن حکومتی افواج نے چار ماہ قبل ہی رطبہ کو دولتِ اسلامیہ کےقبضے سے آزاد کروایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

موصل میں حکومتی آپریشن کے بعد سے دولتِ اسلامیہ پر دباؤ بڑھا ہے جس کے بعد دولتِ اسلامیہ نے کئی علاقوں میں خودکش حملے کیے ہیں۔

اس سے پہلے جمعے کو دولتِ اسلامیہ نے موصل سے 170 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کرکوک میں حملہ کیا جس میں 35 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوئے تھے۔

مشرق وسطیٰ کے اُمور پر بی بی سی کے تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ رطبہ پر ہونے والا حملے عراق کے شام سے متصل سرحد سے 150 کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا ہے اس لیے اس حملے سے موصل میں جاری آپریشن متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ موصل کے قریب کرکوک میں ہونے والا حملہ اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ عراق کے لیے دولتِ اسلامیہ ابھی بھی خطرہ ہے۔

اسی بارے میں