جان بچانے کے لیے 'چوہے بھی کھائے'

رہائی پانے والے کشتی/جہاز راں تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صومالی قزاقوں کی قید سے ساڑھے چار سال بعد رہائی حاصل کرنے والا ایک گروپ جس میں کئی ممالک کے افراد شامل ہیں

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے جہاز رانوں میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض اوقات انھوں نے جان بچانے کے لیے چوہے بھی کھائے۔

کشتی اور جہاز رانوں کے گروپ کو صومالیہ کے قزاقوں نے گذشتہ تقریباً پانچ سال سے یرغمال بنا رکھا تھا۔

فلپائن کے جہاز راں آرنیل بالبیرو نے اپنی اس پریشانی کے دور کے خاتمے کے بعد بتایا کہ انھیں پینے کا پانی بھی بہت کم مقدار میں دیا جاتا تھا اور انھیں تو بعد میں ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ 'چلتی پھرتی لاش' ہیں۔

26 سالہ جہاز راں کو سنہ 2012 میں ایک چھوٹے جہاز سے پکڑا گیا تھا اور انھیں بالاخر صومالیہ لے جایا گیا تھا۔

ان لوگوں کو سنیچر کو آزاد کیا گيا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے رقم ادا کی گئی ہے۔

رہا ہونے والے جہاز رانوں میں چین، فلپائن، کمبوڈیا، انڈونیشیا، ویتنام اور تائیوان کے جہاز راں شامل ہیں۔

مسٹر بالبیرو ایف وی ناہم 3 نامی جہاز کے عملے میں شامل تھے جب ان کے جہاز پر سیشیلے جزائر کے جنوب میں صومالی قزاقوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ اوشین بیانڈ پائریسی تنظیم کے مطابق قبضے کے دوران عملے کا ایک شخص ہلاک ہو گيا تھا۔

ایک سال کے بعد جہاز غرقاب ہو گيا اور عملے کو صومالیہ لے جایا گیا جہاں دو جہاز راں کی بیماریوں کے سبب موت ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق ان کی رہائی کے لیے مبینہ طور پر رقم بھی ادا کی گئی ہے

مسٹر بالبیرو نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ ساڑھے چار برسوں نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو 'زندہ لاشوں' میں تبدیل کر دیا ہے۔

قزاقوں کے سلوک کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: 'وہ ہمیں بہت کم پانی دیتے تھے۔ ۔۔ ہم نے چوہے کھائے۔ ہم انھیں جنگل میں پکاتے تھے۔ (ہم) کچھ بھی کھاتے رہے، کچھ بھی۔ آپ کو بھوک لگتی ہے تو آپ کھاتے ہیں۔'

انھوں نے اس پریشانی کے بعد کی زندگی کے بارے میں کہا: 'ہمیں نہیں معلوم کہ آگے کیا ہوگا۔۔۔ ایک بار پھر سے آغاز کرنا بہت مشکل ہوگا۔'

اس گروپ کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ صومالیہ کے قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے چند بچے ہوئے افراد میں شامل ہیں۔

اس صدی کے اوائل میں صومالی قزاقوں کے ہاتھوں تاوان کے لیے یرغمال بنانے کا سلسلہ زوروں پر تھا لیکن اب اس میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ بین الاقوامی فوج کی جانب سے سمندر میں نگرانی ہے۔

اس کے علاوہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں زندہ بچنے والوں کی ایک ویڈیو کلپ جاری کی گئي ہے جو کہ سنہ 2014 کی معلوم ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ابھی یہ لوگ زندہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں