جرمنی: پیشاب سے چرچ کی عمارت کو نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ ISTOCK/SERGIYN

جرمنی کے شہر ایلما میں حکام شہر میں موجود گرجا گھر کی عمارت پر مردوں کی جانب سے پیشاب کرنے کے واقعات کو روکنا چاہتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس قدیم عمارت پر مسلسل پیشاب کرنے سے اس کی ساخت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایلما میں واقع دنیا کے سب سے اونچے مینار والے اس گرجا گھر کے بارے میں مقامی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ عمارت کی بنیادیں پیشاب میں موجود تیزابیت کی وجہ سے خراب ہو رہیں ہیں۔

حکام نے رواں برس یہاں پیشاب کرتے ہوئے پکڑے جانے والوں پر کیے جانے والے جرمانے میں سو فیصد اضافہ کیا تھا اور اب جو شخص بھی عمارت پر پیشاب کرے گا اسے 100 یورو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

لیکن مقامی حکام کے مطابق جرمانے میں کیے جانے والے اضافے سے بھی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے۔

گرجا گھر کی دیکھ بھال کے ذمہ دار محکمے کے سربراہ مائیکل ہلبرٹ کا مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ میں ڈیڑھ سال سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہوں ، اور ایک بار پھر اس پر قہہ اور پیشاب کی تہہ نظر آ رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’پیشاب پولیس‘ کا کردار نہیں ادا کرنا چاہتے لیکن وہ اس ’سماج دشمن‘ رویے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

دیگر شہروں کی طرح ایلما میں بھی گرجا گھر کے قریب بھی بہت سی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور مسٹر ہلبرٹ کا کہنا ہے کہ تقارب کا انعقاد کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے لیے بیت الخلا کا انتظام کیا کریں۔

شہر کے حکام نے مقامی اخبار سیود ویسٹ کو بتایا ہے کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں پولیس کے گشت میں اضافہ کیا گیا ہے تاہم پیشاب کرتے ہوئے کسی کو رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا جا سکا ہے۔