عراق میں دولت اسلامیہ کے جوابی ہتھکنڈے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی فوجیں دولتِ اسلامیہ کے آخری گڑھ موصل کی جانب بڑھ رہی ہیں

عراق میں ایک ہفتے کی مسلسل لڑائی کے بعد عراقی فوج اور کُرد فورسز اب موصل کے قریب پہنچ گئی ہیں جو کہ عراق کا وہ آخری شہر ہے جہاں ابھی تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا غلبہ ہے۔

عراقی حکام کو امید ہے کہ فوج اور کُرد جنگجو مل کر دولت اسلامیہ کو موصل سے نکانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ عسکریت پسندوں کی عبرتناک شکست ثابت ہو گی اور پھر ان کے ہاتھ عراق کا بہت تھوڑا علاقہ باقی بچے گا۔

لیکن اگر دیکھا جائے تو گذشتہ ہفتے دولتِ اسلامیہ نے نہ صرف میدان جنگ میں عراقی اور کرد فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ملک کے کئی دیگر شہروں اور قصبوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

لگتا ہے کہ دولت اسلامیہ آہستہ آہستہ اپنی اس جنگی حکمت عملی یا منصوبے سے پردہ ہٹا رہی ہے جس پر وہ اس وقت سے کام کر رہی تھی جب اس نے موصل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ جب اس نے جون سنہ 2014 میں موصل پر قبضہ کیا تھا تو اسے معلوم تھا کہ آخر کار ایک دن موصل پر کنٹرول کی فیصلہ کن لڑائی ہو کر رہے گی۔

موصل سے توجہ ہٹانا

جب سے عراقی فوج اور کرد ملیشیا نے موصل پر چڑھائی کا آغاز کیا ہے، دولت اسلامیہ نے یہ ہتھکنڈا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ گذشتہ جمعے کو ملک کے مختلف علاقوں، خاص طور پر کُردوں کے زیر قبضہ شہر کرکوک، میں حملے دولت اسلامیہ کی اسی حکمت عملی کی مثال ہیں۔

کرکوک شہر میں کیے جانے والے حملوں میں دولت اسلامیہ کے کم از کم ایک سو بندوق برداروں نے حصہ لیا جن میں ایسے جنگجو بھی شامل تھے جو پہلے سے ہی شہر میں دبک کر بیٹھے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دولت اسلامیہ موصل سے توجہ ہٹانے کے لیے دیگر شہروں میں حملے کر رہی ہے

یہ عسکریت پسند جوں ہی شہر میں داخل ہوئے انھوں نے مقامی سنی آبادی کو پیغام دیا کہ وہ اپنے گھروں سے نکل آئیں اور دولت اسلامیہ کا ساتھ دیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی ذرائع نے بتایا کہ شہر میں کچھ لوگ ایسے ضرور تھے جو واقعی باہر نکلے اور انھوں نے عسکریت پسندوں کا ساتھ بھی دیا۔

پولیس کے دفاتر، بجلی گھر اور ٹاؤن ہال پر ان حملوں میں کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کی حکمت عملی درست ثابت ہوئی اور اس دن دو ہزار پیشمرگہ جنگجوؤں کو موصل سے واپس بلا کر کرکوک بھیج دیا گیا تھا۔

کرکوک میں سکیورٹی فورسز کے کمانڈر، حالو نجات' نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یقین ہے کہ عسکریت پسندوں نے بغداد سے کرکوک اور کرکوک سے موصل جانے والی مرکزی سڑکوں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا تھا تاکہ موصل میں ان کے خلاف لڑنے والے عراقی فوجیوں اور کرد پیشمرگہ کی رسد کو بند کر دیا جائے۔ تاہم ان شدت پسندوں کو سڑکیں تباہ کرنے سے پہلے ہے مار دیا گیا تھا۔

کرکوک پر حملوں کے بعد مغربی عراق میں رُطبہ کے قصبے اور موصل کے مغرب میں واقع سِنجار کے علاقے میں بھی حملے ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکوک کے گورنر نجم الدین کریم نے دولت اسلامیہ کے حملوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کی عیادت بھی کی

خود کش حمل آوروں کے قافلے

موصل کی جانب بڑھنے والے عراقی فوجیوں اور پیشمرگہ کے دستوں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی تھی جب انھوں نے دیکھا کہ کاروں اور ٹرکوں کا ایک قافلہ تیزی سے ان کی جانب آ رہا ہے۔ انھیں خدشہ تھا کہ یہ کاریں اور ٹرک بارود سے لدے ہوئے ہیں جنھیں دولت اسلامیہ کے خود کش بمبار چلا رہے ہیں۔

یہ دولت اسلامیہ کا ایک نیا ہتھکنڈا ہے جس کا مقصد شامی سکیورٹی فوسز اور فوجیوں کو ڈرانا ہے تا کہ وہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا راستہ نہ روک سکیں۔ کاروں اور ٹرکوں پر چھوٹے ہتھیاروں کی گولیاں اثر نہیں کرتیں کیونکہ یہ گاڑیاں عموماً بکتر بند ہوتی ہیں۔ان گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے ٹینک شکن میزائلوں کی بوچھاڑ کرنا پڑتی ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ فضائی مدد طلب کر لیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس طیاروں کو بلانے کا وقت بھی ہو۔

دہشت گرد آخری وقت تک اپنی بکتر بند گاڑیوں کو چھپائے رکھتے ہیں اور انھیں صرف اسی وقت منظر پر لاتے ہیں جب کوئی حملہ مقصود ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کُرد پیشمرگا ملیشیا کے جوان دولت اسلامیہ کے خود کش حملوں کا مقابلہ تینک شکن میزائلوں سے کر رہے ہیں

سرنگیں

گذشتہ دنوں جوں جوں عراقی فوجی موصل کی جانب بڑھے اور راستے میں دیہاتوں اور قصبوں پر غلبہ پاتے گئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ عللاقے جو دولت اسلامیہ کے زیر تسلط تھے وہاں پر انھوں نے گوریلا جنگ لڑنے کے لیے جا بجا سرنگیں بنا رکھی ہیں۔

ان سرنگوں کا بنیادہ مقصد خود کو ہوائی حملے سے بچانا ہے۔ عراقی فوجیوں نے دیکھا کہ ان سرنگوں میں عسکریت پسندوں نے نہ صرف کھانے پینے کا سامان، سلیپنگ بیگ اور پانی رکھا ہوا تھا بلکہ وہاں بجلی کی تاریں بھی لگی ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی فوجیوں کو اس قسم کی کئی سرنگوں کا سراغ ملا ہے

انسانی ڈھالیں

اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ مختلف تنظیموں کی جانب سے اس تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ دولتِ اسلامیہ عراق میں، اور خاص طور پر موصل میں، عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

کُرد خفیہ ادارے کے ایک سینیئر اہلکار نے حال ہی میں مجھے بتایا کہ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ تنظیم نے عام شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ دولت اسلامیہ کمزور ہو چکی ہے اور آخری حربوں پر اتر آئی ہے۔

کُرد افسر کو معلوم نہیں تھا کہ عراق کے کن علاقوں میں تنظیم لوگوں کو استعمال کر رہی ہے، لیکن اگر یہ بات درست ہے تو شامی فوجیوں کے لیے موصل پر چڑھائی کرنا دشوار تر ہو جائے گا، کیونکہ دولت اسلامیہ اس شہر پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گی۔

دوسری جانب عراقی جرنیلوں نے بھی بتایا ہے کہ موصل پر چڑھائی میں انھیں جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ یہی خدشہ ہے کہ عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق موصل کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے۔

اسی بارے میں