آسٹریلیا میں بس میں آگ لگنے سے ڈرائیور ہلاک

علی شیر تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/MANEET ALISHER
Image caption بس ڈرائیور کی شناخت منمیت علی شیر کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ 29 برس کے تھے اور برسبین میں مقیم انڈین کمیونٹی میں اچھی طرح سے معروف تھے

آسٹریلیا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برسبین میں ایک بس کا انڈین نژاد ڈرائیور ایک مسافر کی جانب سے پھینکے جانے والے مادے کی وجہ سے لگنے والی آگ میں جل کر ہلاک ہو گیا ہے۔

بس میں آگ لگنے کی وجہ سے دھواں بھر گیا اور ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اس کا عقبی شیشہ توڑ کر چھ مسافروں کو باہر نکلنے میں مدد دی۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے 11 افراد کو طبی امداد دی ہے جنھیں زخم آئے یا وہ دھوئیں کا شکار ہوئے۔

پولیس نے اس سلسلے میں ایک 48 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کا معاملہ نہیں۔

ہلاک ہونے والے بس ڈرائیور کی شناخت 29 سالہ منمیت علی شیر کے طور پر کی گئی ہے جو برسبین میں مقیم انڈین کمیونٹی میں معروف تھے۔

منیمت کے دوستوں نے انھیں باصلاحیت گلوکاراور اچھا ڈانسر بتایا۔ ان کی منگنی ہو چکی تھی اور جلد ہی شادی بھی ہونے والی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ACB
Image caption یہی وہ متاثرہ بس ہے جس کے ڈرائیور کو جلا کر ہلاک کر دیا گیا

پولیس افسر جم کیوگ نے اس بارے میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا: 'میں نے کئی طرح کی صورت حال کا سامنا کیا ہے لیکن یہ تو اتنی عجیب ہے کہ لگتا ہے اس کے پیچھے کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔'

'ایک بس ڈرائیور جو اپنا کام کرتا ہے، اپنی برادری کا حامی ہے، اس کی زندگي غیر ضروری عمل سے بغیر کسی وجہ کے چھین لی گئی۔'

ٹیکسی ڈرائیور ایگویک نیوک نے باقی مسافروں کو بس سے نکالنے میں مدد کی۔

انھوں نے ایک مقامی اخبار کو بتایا: 'سبھی لوگ بس کے پیچھے تھے اور بس سے باہر آنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن چونکہ بس آگے سے جل رہی تھی اور اس سے شعلے نکل رہے تھے وہ باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔'

وہ پیچھے کا دروازہ بھی نہیں کھول پارہے تھے تو میں نے باہر سے لات مار کر اسے گرا دیا پھر وہ باہر نکل پائے۔'

29 سالہ ڈرائیور کے اعزاز میں انتظامیہ نے شہر میں پرچم سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں