اپنوں سے دوری، بہتر زندگی کی بڑی قیمت

سرحد
Image caption میکسیکو اور امریکہ کے درمیان امیگریشن کے مسائل بہت سے لوگوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں

ٹی وی پر امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ہونے والی بیان بازی سن کر آپ کو اگر یہ لگا ہو کہ اس بار کے اہم مسائل یا تو ڈونلڈ ٹرمپ کی بیان بازیاں ہیں یا پھر ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی پریشانیاں، تو پھر آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس بار زیادہ تر سرخیاں انھی باتوں پر مبنی ہیں۔

امیگریشن، معیشت، نسل پرستی، دہشت گردی جیسے مسائل کبھی ایک بڑی سی دیوار بنانے کی بحث میں، کبھی مسلمانوں کو امریکہ سے باہر کرنے کی باتوں میں تو کبھی چین سے روزگار واپس لانے کے سطحی مباحثے میں کہیں کھو کر رہ گئے ہیں لیکن جب بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے عام امريكيوں سے بات کی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کے لیے یہ مسائل بظاہر کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید ایک خاص بات یہ نظر آئی کہ ہر مسئلہ کہیں نہ کہیں معیشت سے بھی منسلک ہے۔

پانچ اقساط پر مشتمل یہ سیریز آپ کو امریکی زندگي اور سیاست دونوں پہلوؤں سے روشناش كرائے گی اور اس کی پہلی کڑی امیگریشن پر مبنی ہے۔

_________________________________________________________________________________________________________________

جینٹ کی ڈائری میں سنیچر کی ہر صبح لائحہ عمل طے ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ وہ اپنی ماں سے ملنے جاتی ہیں۔ آپ کو یہ ایک عام سی کہانی معلوم ہو سکتی ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ یہ ملاقات لوہے کی سلاخوں کے آر پار ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف بغیر دستاویزات والے تمام لوگوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے بلکہ سرحد پر ایک ایسی دیوار بنانے کا اعلان کیا ہے جسے کوئی عبور نہ کر سکے

جینٹ اپنی ماں کو ایک پرچھائی نما چہرے کی طرح دیکھ پاتی ہیں اور صرف ان کی انگلیوں کو چھو پاتی ہیں۔

یہ جگہ کیلی فورنیا کے سان ڈیاگو شہر کے باہر امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر قائم فرینڈشپ پارک میں ہے۔ سرحد پر لوہے کی جیل نما دیواروں کے درمیان ایک چھوٹا سا کونا جہاں ہر ہفتے سنیچر اور اتوار کی صبح صرف چار گھنٹوں کے لیے بہت سے لاطینی خاندان سرحد پار اپنے اہل خانہ کی آہٹ سننے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

جینٹ کہتی ہیں 'میں اپنے بچوں سے کہتی ہوں کہ اپنی ماں سے نہیں مل پانا، ان کو گلے نہیں لگا پانا میرے لیے انتہائی مشکل ہے لیکن یہ قیمت میں تمہاری بہتر زندگی کے لیے چکا رہی ہوں۔'

ان ملاقاتوں میں تھوڑے آنسو، تھوڑی ہنسی، گلے شکوے سب کچھ ہوتے ہیں لیکن جالیوں کے پار سے ہمیشہ یہی سوال ہوتا ہے کہ تمہارے کاغذات کب بنیں گے؟

جینٹ کی طرح یہاں آنے والے زیادہ تر لوگوں کے پاس ایسے دستاویزات نہیں ہیں کہ وہ سرحد پار کر کے واپس آ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیوار کے جتنے قریب جائیں، وہاں رہنے والے لوگ ایک نئی دیوار کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہیں

امریکہ میں ایسے لاکھوں لوگ ہیں جو برسوں پہلے بغیر دستاویزات کے یہاں آئے، یا پھر ویزا ختم ہونے کے بعد یہاں رہ گئے۔ کچھ اپنے بچوں کے ساتھ آئے تھے، بعض کے بچے یہاں پیدا ہوئے اور امریکی شہری بن گئے لیکن ماں باپ 'غیر قانونی' ہی رہے۔ لاکھوں ایسے خاندان ہیں جن کے بچے یہاں ہیں لیکن ماں باپ پولیس کی حراست میں آئے اور انھیں سرحد پار بھیج دیا گیا۔

ملک میں امیگریشن کے قوانین میں بہتری کی بہت کوششیں ہوئیں لیکن سیاست آڑے آتی رہی بطور خاص رپبلكن پارٹی کی سیاست، جہاں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امیگریشن نے امریکہ کو کمزور کیا ہے۔

صدر اوباما نے ایک سرکاری حکم کے ذریعہ ایسے لاکھوں لوگوں کو ایک روزگار کارڈ دیا جس سے وہ اس سائے سے باہر نکل آئیں، ٹیکس دیں اور شہریت کی قطار میں شامل ہو جائیں۔ کارڈ ایک طرح کی ضمانت ہے کہ انھیں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

لیکن اس انتخابی موسم میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف بغیر دستاویزات والے تمام لوگوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے بلکہ سرحد پر ایک ایسی دیوار بنانے کا اعلان کیا ہے جسے کوئی عبور نہ کر سکے۔ ان کی دلیل ہے کہ اوباما کی کارروائی ایک طرح سے لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کے لیے انعام ہے۔

ٹرمپ کے اس اعلان کی وجہ سے اس روزگار کارڈ کے باوجود بہت سے لوگ سہمے ہوئے سامنے آتے ہیں اور جینٹ کی طرح ہی اپنا پورا نام بتانے میں ہچکچاتے ہیں کہ پتہ نہیں نئی حکومت کے بعد کہیں انھیں دوبارہ چھپ چھپا کر نہ رہنا پڑے۔

Image caption سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس جالی والی دیوار سے دراندازی میں کمی آئی ہے۔

جینٹ کہتی ہیں: 'ہم کوئی مجرم نہیں، برے لوگ نہیں ہیں۔ اپنے ملک میں مواقع نہیں تھے تو ایک بہتر زندگی کے لیے یہاں آ گئے۔ ٹرمپ کی باتیں سن کر دل گھبرانے لگتا ہے۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کی صدارتی دعویداری میں ایک نئی دیوار کے وعدے کا اہم تعاون ہے، لیکن کیلیفورنیا سے ٹیکسس تک پھیلی سرحد پر پہلے ہی زیادہ تر حصوں میں لوہے کی سلاخوں والی دیواریں موجود ہیں جن پر تقریباً 20 ہزار پٹرول ایجنٹس اور ڈرونز کے ذریعہ کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کوئی ان دیواروں کو پار کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کئی جگہ ایک منٹ میں جالياں کاٹ دی جاتی ہیں لیکن سرحد پر موجود پٹرول ایجنٹ جیمز نلسن کا کہنا ہے کہ دیوار کی وجہ سے دراندازی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

دیوار کے جتنے قریب جائیں، وہاں رہنے والے لوگ ایک نئی دیوار کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے ہم سے کہا کہ جب تک سرحد کے پار زندگی بہتر نہیں ہوتی، لوگ اس طرف آنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ بطور خاص اس وقت جب میکسیکو کے مکانوں کی کھڑکیوں سے امریکہ کے خوشحال چہرے چوبیس گھنٹے نظر آتے ہوں۔

مجھے دستاویزات کے ساتھ امریکہ سے میکسیکو پیدل جانے میں بہ مشکل بیس منٹ لگے اور میکسیکو کے تیووانا شہر میں داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ فرسٹ ورلڈ اور تھرڈ ورلڈ اتنے قریب بھی ہو سکتے ہیں۔

دیوار کی دوسری طرف شور تھا، بھیڑ تھی، چھوٹے بچے سڑکوں پر سامان فروخت کر رہے تھے، خریداری میں مول تول ہو رہے تھے، ٹیكسی والوں کے درمیان گاہکوں کو پکڑنے کے لیے رسہ کشی تھی، آوارہ کتے سڑکوں پر نظر آ رہے تھے، مرغ کی بانگ سنائی دے رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہاں رہنے والے ایک شخص جیسوس کا کہنا تھا کہ جب لوگ ایک بہتر زندگی کی تلاش میں گھر چھوڑ دیتے ہیں تو بھلے ہی سرحد کے نیچے سے سرنگ ہی کیوں نہ بنانی پڑے وہ اس پار جانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

دنیا کے مختلف کونوں سے آنے والے لوگ تیووانا میں انتظار کرتے ہیں کبھی دھند کا، کبھی اندھیرے کا، کہ موقع پاتے ہی دوسری طرف چھلانگ لگا سکیں۔

جیسوس کہتے ہیں: جو داخل ہو پاتے ہیں وہ بھی ایسے کام کرتے ہیں جو عام امریکی نہیں کرتے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیت گئے اور ان لوگوں کو باہر بھیج دیا تو امریکی معیشت نالی میں چلی جائے گی۔

دیکھا جائے تو اوباما انتظامیہ کے دور میں بھی 25 لاکھ لوگوں کو ڈیپورٹ کیا گیا ہے، خاص طور سے انھیں جو قانون توڑتے ہوئے پائے گئے خواہ وہ ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہو۔ ٹرمپ ایک کروڑ سے زیادہ کے لیے ڈیپورٹیشن کی بات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ اس دیوار کو مزید مضبوط اور اونچی بنانے کے حق میں ہیں

بہت سے لوگ دیوار کو ان امریکی اصولوں کے خلاف مانتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ ملک بنا تھا۔ اس ملک کو ایک طرح سے باہر سے آنے والوں نے ہی بنایا ہے لیکن جو ٹرمپ کی باتوں کی حمایت کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر سرحدیں مضبوط نہیں تو امریکی قانون کا ڈر ختم ہو جائے گا، امریکہ کمزور ہو جائے گا۔

سرحد کے پاس ہی ایک شہر ہنکوبا میں رہنے والے جان ہاگ کا کہنا تھا کہ میڈیا والے ان جیسے لوگوں کو ولن کی طرح پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، 'ذرا سوچیے اگر سرحد نہیں ہوگی، تو ملک کیا رہے گا؟'

لاطینی امریکی نژاد لوگوں کے لیے امیگریشن سب سے اہم انتخابی مسائل میں سے ایک ہے اور ٹرمپ کی دیوار نے سب سے زیادہ انھیں متاثر کیا ہے۔ کئی ریاستوں میں ان کے ووٹ صدر کے عہدے کی دوڑ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

بظاہر امریکہ آج اس دوراہے پر ہے جہاں ایک سوچ بلند ہوتی دیواروں کو اپنی بہتری کا راستہ کہتی ہے، دوسری وہ جو دیواروں کے باوجود نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ یہ انتخابات کافی حد تک انھی دونوں کے درمیان کی جنگ ہے۔

اسی بارے میں