’شہریوں کے اصل مسائل پر بات ہی نہیں ہو پائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیویارک میں ٹیکسی چلانے والوں کی اکثریت ایشیائی نژاد امریکیوں پر مشتمل ہے۔

کہا جاتا ہے کسی شہر کی سیاست یا حالات جاننے ہوں تو ٹیکسی ڈرائیور ایک اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

نیویارک میں ٹیکسی ڈرائیورز میں پاکستانی نژاد امریکیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ مین ہٹن کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے میں نے ان کی سیاسی ترجیحات جاننے کی کوشش کی۔

سنہ 2000 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے امریکہ منتقل ہونے والے سردار امتیاز خان بروکلین میں رہتے ہیں۔ وہ ہر روز نیویارک سے مسافروں لاتے لے جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں ہلیری کلنٹن کو ووٹ ڈالوں گا تاہم وہ نالاں ہیں کہ اس انتخاب میں ان کے مسائل پر ذکر نہ ہونے کےبرابر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ٹرمپ کی بے وقوفیوں کی وجہ سے شہریوں کے اصل مسائل ہر بات ہی نہیں ہو پائی۔ ہر وقت وہ ہلیری کی ای میلز یا خواتین کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرنے میں مصروف رہے۔ جبکہ ہلیری نے معیشت اور خارجہ پالسی پر کسی حد تک بات کی ہے۔'

امتیاز خان کا کہنا ہے کہ 'میں امریکی شہری ہونے کے ناطے ٹیکس دیتا ہوں اور میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے پیسے دوسرے ملکوں میں جنگ پر خرچ کیے جائیں۔ اس سے معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آنے والے صدر امن کے لیے راہ ہموار کریں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ٹرمپ یہاں تک اس لیے پہنچے ہیں کیونکہ امریکہ میں ایک مخصوص طبقہ ہے جو اقلیتوں کو پسند نہیں کرتا اور ٹرمپ انھی کے خوف پر کھیل رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

47 سالہ امتیاز کے تین بچے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض زیبِ تن کیے دکھائی دیے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'لوگ مجھے گھورتے ہیں اور نیویارک میں حجاب والی خاتون کو آگ لگانے کے واقعہ کے بعد مجھے ڈر لگتا ہے مگر میں اپنے قومی لباس میں ہی خوش ہوتا ہوں۔'

ظفر خان نیویارک میں لیموزین ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ ایئرپورٹ کی سواریوں سے زیادہ خوش ہوتے ہیں کیونکہ فلیٹ ریٹ پر پیسے اچھے بن جاتے ہیں۔

اُن کے پانچ بچے ہیں اور وہ یومیہ دو سے تین سو ڈالر کما لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ظفر خان ڈیموکریٹس کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'یہ الیکشن کافی لحاظ سے انوکھا ہے۔ پہلی خاتون صدر بننے کا امکان اور پھر ٹرمپ بھی کوئی سیاسی شخصیت نہیں۔ ایک کاروباری شخص اپنے پیسے کے بل بوتے پھر یہاں تک پہنچا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'ہم نے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قائل کیا ہے کہ وہ ووٹ ڈالیں تاکہ تبدیلی آسکے۔'

تبدیلی کیا ہے کہ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'جیسے برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد شخص لندن کا مئیر بن سکتا ہے تو ہم امریکیوں کو بھی چاہیے سیاسی دھارے کا حصہ بنیں تاکہ ہماری اگلی نسل کانگریس تک پہنچ سکے۔

اسی بارے میں