نئی اور پرانی معیشت میں منقسم امریکی ووٹ

کارخانہ
Image caption رسٹ بیلٹ کہلانےوالے ان علاقوں سے بڑے کارخانوں کی نقل مکانی گذشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے مسلسل جاری ہے

پی آئی او ریسرچ کے مطابق اس بار کے انتخابات میں معیشت امریکی ووٹروں کے لیے اہم مسئلہ ہے اور خاص طور سے ڈونلڈ ٹرمپ کے 90 فیصد حامیوں کے لیے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

پورے ملک میں ہونے والے بعض سرویز میں بھی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں ووٹروں کی رائے آئی تھی کہ ٹرمپ ہلیری کلنٹن سے بہتر ثابت ہوں گے۔

امریکی انتخاب پر ہماری خصوصی سیریز کی دوسری کڑی میں بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے اسی مسئلے پر ملک کے مختلف حصوں میں عام امریکیوں سے بات کی۔

______________________________________________________________________

ریاست نیویارک کے شہر بفیلو میں کبھی ہزاروں کو روزگار دینے والی بیت اللحم سٹیل مل جیسے آج اپنی قسمت کو رو رہی ہے۔ گرم، پگھلتے لوہے کی جگہ یہاں سيلن سے بھری دیواریں اور زنگ آلود ڈھانچے نظر آتے ہیں۔

ایسی ہی بعض بند اور کچھ اب بھی دھواں اگلنے والی ملوں کے سائے تلے سوانی ہاؤس معیشت کی گاڑی کو برسوں سے رکتے بڑھتے دیکھ رہا ہے۔

٭ بہتر زندگی کے لیے اپنوں سے دوری کی قیمت

یہ یہاں کے سب سے پرانے شراب خانوں میں سے ایک ہے اور اس کے مالک ٹم وائلس ایک کونے میں بیٹھ کر ہر روز اس شہر کے روبرو ہوتے ہیں۔

جس دن میں وہاں پہنچا، اس دن وہاں ایک بڑا ہاکی میچ تھا جس کی وجہ سے بار میں خاصی رونق تھی لیکن اس ماحول میں بھی ٹرمپ اور کلنٹن کی بحث سنائی دے رہی تھی۔

وائلس کا کہنا تھا کہ برسوں سے صرف ڈیموکریٹس کو اپنانے والا یہ علاقہ اس وقت ٹرمپ کا نام لے رہا ہے۔

Image caption بیت اللحم سٹیل مل میں گرم، پگھلتے لوہے کی جگہ سيلن سے بھری دیواریں اور زنگ آلود ڈھانچے نظر آتے ہیں

وہ کہتے ہیں: 'وہ بےباک باتیں کرتے ہیں۔ اس شہر کے لوگ ویسی ہی باتیں سننا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کو دوسرے سیاست دانوں کی طرح بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔'

اس شراب خانے میں آنے والے زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو یا تو خود یا پھر ان کا کوئی اپنا بڑی بڑی ملوں میں کام کر چکا ہے اور ان کے بند ہو جانے پر انھیں روزی روٹی کے لیے دوسرے راستے تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔

یہ امریکی مڈل کلاس کا وہ چہرہ ہے جس کا یہ خیال ہے کہ امریکہ کی عظمت اس بات میں مضمر تھی کہ وہ بڑی بڑی چیزیں بناتا تھا اور اس میں پسینہ بہانے والے لوگ ہی صحیح معنوں میں اس ملک کی معیشت کا محور تھے۔

انھیں امید ہے کہ ٹرمپ نے جس طرح سے اپنا بزنس قائم کیا ہے، اسی طرح وہ ان فیکٹریوں کو واپس لے آئیں گے۔

بار میں اپنی بیوی کے ساتھ آنے والے ایک صاحب، جنھوں نے کئی بار درخواست کرنے پر بھی اپنا نام نہیں بتایا، گذشتہ 50 سالوں سے ہر روز ایک فیکٹری میں صبح تین بجے کی شفٹ میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں سٹیل کے علاوہ نہ تو کچھ بنانا آتا ہے اور نہ ہی وہ جاننا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'ٹرمپ کی کئی باتیں مجھے پسند نہیں ہیں، خاص طور سے جس طرح سے وہ عورتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ لیکن آج اگر معیشت کی کمان مجھے کسی کے ہاتھ میں سونپنی ہو تو وہ ٹرمپ ہی ہوں گے۔'

Image caption اوہائیو کے ينگس ٹاؤن علاقے میں ایک سے ایک بڑی سٹیل ملز کے ڈھانچے نظر آتے ہیں

سوانی ہاؤس سے کچھ ہی فاصلے پر جہاں کبھی بند فیکٹریاں ہوتی تھیں وہاں سولر سٹی تعمیر ہو رہا ہے اور ہزاروں روزگار پیدا ہونے کے آثار ہیں۔ لیکن سرخ پگھلتے لوہے کے سامنے اس طبقے کو اس نئی معیشت کے یہ رنگ پھیکے لگتے ہیں۔

اوباما کے آٹھ سالوں میں معیشت کافی بہتر ہوئی ہے، بے روزگاری کی شرح نیچے آئی ہے لیکن رسٹ بیلٹ (زنگ کی پٹی) کہلانےوالے ان علاقوں سے بڑے کارخانوں کی نقل مکانی گذشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے مسلسل جاری ہے۔

اوہائیو کے ينگس ٹاؤن علاقے میں ایک سے ایک بڑی سٹیل ملز کی باقیات نظر آتی ہیں۔ کبھی انھی میں سے ایک میں کام کرنے والے مارک جیلٹ آج سکول بس چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑی فیكٹرياں تو 70اور 80 کی دہائی میں ہی بند ہونی شروع ہو گئی تھیں لیکن اس کے بعد جس طرح کے معاشی معاہدے ہوئے ہیں اس نے ان کے پیچھے کھڑے ہونے کی امید ختم کر دی ہے۔ اس سلسلے میں وہ خاص طور سے بل کلنٹن کے نیفٹا (NAFTA) معاہدے کا ذکر کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تمام کاروباری معاہدوں کو منسوخ کر دیں گے اور امریکہ کے مفادات کو سب سے اوپر رکھیں گے۔ ہلیری ابھی تو کہہ رہی ہیں کہ وہ ہمارے مفادات کا خیال رکھیں گی، لیکن وہ وال سٹریٹ کے ہاتھوں بکی ہوئی ہیں۔'

یہ نعرہ کافی حد تک پرائمری انتخابات میں ہلیری کے خلاف کھڑے ہونے والے ان کے ڈیموكریٹ حریف برنی سینڈرز نے شروع کیا تھا اور ٹرمپ نے اس کا آہنگ مزید بلند کر دیا۔ اس بار کے انتخابات میں ایک طرح سے امریکہ کے اردگرد نہ صرف اینٹ اور گارے کی دیوار بنانے کی بات ہو رہی ہے، بلکہ ایک پروٹیكشنسٹ معیشت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔

Image caption ایک طبقے کو امید ہے کہ ٹرمپ نے جس طرح سے اپنا بزنس کھڑا کیا ہے، اسی طرح وہ ان فیکٹریوں کو واپس لے آئیں گے

ہلیری کلنٹن کو کافی حد تک پرائمری انتخابات کے دوران اپنے رخ میں تبدیلی لانا پڑی اور فی الحال وہ بھی اسی طرف جھکتی نظر آ رہی ہیں۔ جہاں بڑے بڑے کارخانے تھے وہاں یہ سوچ ووٹروں کو پسند آ رہی ہے۔

جب ٹرمپ چین اور میکسیکو سے روزگار واپس لا کر یہاں کے کارخانوں کو پھر سے چالو کرنے کی بات کرتے ہیں تو تالیوں کی گونج رکنے کا نام نہیں لیتی۔ لیکن اقتصادی ماہرین کے مطابق ٹرمپ جو خواب دکھا رہے ہیں اسے آج کی دنیا میں پورا کرنا ناممکن سا ہے۔

اسی ماحول میں نئی معیشت کے تحت ایک نئی سوچ بھی پیدا ہو رہی ہے۔

پنسلوینيا کے شہر ایری میں ریڈيس كوورک کے نام سے اپنی کمپنی شروع کرنے والے بل شولز اور شان فیڈوركو کا خیال ہے کہ ٹرمپ جتنے بھی وعدے کر لیں بڑی فیکٹری اب واپس نہیں آنے والی۔ اب تو سارا کھیل کرسی، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا ہے۔

فیڈوركو کہتے ہیں: 'میرے اور بل دونوں ہی کے والد ملوں میں کام کرتے تھے۔ لیکن وہ معیشت اب مر چکی ہے۔'

ان دونوں نے ایک خالی فلور کو کمیونٹی ورک سپیس میں تبدیل کر دیا ہے جہاں آ کر کوئی بھی بہت قلیل رقم دے کر انٹرنیٹ پر اپنا بزنس شروع کر سکتا ہے۔

ایری شہر کی آبادی اب بہ مشکل ایک لاکھ کی رہ گئی ہے، سڑکیں سُونی نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں ریل کی پٹریاں بنانےوالی جی ای کمپنی نے اپنے 15ہزار ملازموں کو کم کر کے ڈھائی ہزار کر دیا ہے۔

Image caption یہاں سب کچھ اب سستا ہے، عمارتیں خالی پڑی ہیں: ووٹر ڈیٹرمین

ویلوسٹی نیٹ ورک کے نام سے ایک انٹرنیٹ کمپنی چلانے والی یول ڈیٹرمین کہتے ہیں کہ جب کوئی بڑی کمپنی باہر جاتی ہے اور پورا شہر جیسے صدمے میں چلا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'میں تو چاہوں گا کہ ایسی ایک کمپنی جو ایک ساتھ 2500 لوگوں کو روزگار دیتی ہے، ان کی جگہ 25 کمپنیاں ہوں جو سو سو افراد کو ملازمت دیں۔ آج کے وقت کی یہی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں یہاں سب کچھ اب سستا ہے، عمارتیں خالی پڑی ہیں اور امریکی کمپنیاں جو کام بنگلور میں کرواتی ہیں وہ رسٹ بیلٹ کے ایسے شہروں میں ہو سکتے ہیں لیکن ٹرمپ لوگوں کو وہ راستہ نہیں دکھا رہے۔

شہر میں کئی ایسے افراد ہیں جن کے رشتے داروں نے یہاں کے بڑے کارخانوں میں کام کیا ہے لیکن وہ اب ادھر نہیں دیکھ رہے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی خواب اب اگر مکمل ہو سکتا ہے تو وہ اس نئی ڈیجیٹل اكانومی کی وجہ سے۔

نئی اكانومی کی بات کرنے والے ان لوگوں میں سے زیادہ تر ہلیری کلنٹن کو ووٹ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ کافی حد تک رسٹ بیلٹ کے ووٹ نئی اور پرانی اكانومی کے درمیان منقسم ہیں۔ ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ ٹرمپ بند پڑی فیکٹریوں میں جان ڈال دیں گے، دوسرا طبقہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ یہ یو ٹرن ممکن نہیں۔

اسی بارے میں