’شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی‘، جنوبی سوڈان میں امن فوج کے سربراہ برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جولائی میں تین روز تک جاری رہنے والے لڑائی میں 73 افراد ہلاک ہوئے تھے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کی فوج کے کمانڈر کو برطرف کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ جولائی میں جنوبی سوڈان میں عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی سے متعلق ایک رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں امدادی کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت جوبا میں ایک بین الاقوامی امدادی مرکز پر سرکاری فوج کے حملے کے بعد اقوام متحدہ کے فوجیوں نے مدد سے انکار کر دیا تھا۔

سرکاری فوج اور سابق باغیوں کے درمیان لڑائی میں ایک مقامی صحافی کی ہلاکت اور ایک امدادی کارکن کے ریپ کی اطلاعات ہیں۔

ان جھڑپوں سے اتحادی حکومت کا قیام اور خانہ جنگی کے خاتمے کی کوششوں متاثر ہوئی تھیں۔

اس لڑائی کا آغاز صدر سلوا کیر کے گارڈز اور برطرف نائب صدر ریک مچار کے باڈی گارڈز کے درمیان جھڑپوں سے ہوا تھا۔

پیر کو اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفین ڈوجیرک نے اعلان کیا کہ بان کی مون نے فوری طور پر فوج کے کمانڈر کینیا کے لیفٹیننٹ جنرل جانسن موگوا کیمانی انڈیکی کو تبدیل کرنے کا کہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت میں آٹھ سے 11 جولائی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کی آزادانہ تحقیقات کروائی گئی تھیں۔

تین روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 73 افراد ہلاک ہوئے جن میں 20 نقل مکانی کرنے والے افراد بھی شامل ہیں جنھوں نے اقوام متحدہ سے تحفظ طلب کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی سوڈان میں دسمبر 2013 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 25 لاکھ افراد اندرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں

اس لڑائی میں امن فوج کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

حکومتی فوج کی جانب سے کیے گئے حملوں میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جو یو این ہاؤس کے نام سے معروف ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’شورش کے جواب میں سینیئیر اہلکاروں کی جانب سے قیادت کا فقدان ایک اہم عنصر تھا۔‘

رپورٹ کا کہنا ہے کہ امن مشن ’ایک کمانڈ کے زیر اثر نہیں ہے، جس کے باعث مختلف اور چند ممالک کی فوج جیسے کہ چین، ایتھوپیا، نیپال اور انڈیا کے چار فوجی دستوں کو بعض اوقات متضاد حکم جاری کیے گئے، اور بالاآخر یو این ہاؤس میں 1800 سے زائد انفنٹری فوجیوں کو ضرورت سے کم استعمال میں لایا جاتا ہے۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’کم از کم دو مواقع پر چینی بٹالین نے اپنی دفاعی پوزیشنیں چھوڑ دی تھیں۔‘

اس کا مزید کہنا ہے کہ نیپالی پولیس یونٹ نے بھی لوٹ مار کو روکنے میں ’ناکافی کردار ادا کیا۔‘

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے 16000 اہلکار جنوبی سوڈان میں تعینات ہیں۔

صدر کیر اور سابق نائب صدر مچار کے حامی ملک میں خانہ جنگی کے دوران ایک دوسرے پر مظالم کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں دسمبر 2013 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 25 لاکھ افراد اندرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں