خارجہ امور پر ہلیری اور ٹرمپ میں فرق کیا؟

ہیلری کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کی صدارتی مہم صرف امریکیوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ جو بھی نیا صدر وائٹ ہاؤس آتا ہے اس کی پالیسیاں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔

ویتنام کی جنگ کا ذکر ہو تو امریکی صدر لنڈن جانسن کا نام ذہن میں آیا ہے اور دنیا کے چین سے مراسم کی ابتدا کی بات کی جائے تو رچرڈ نکسن کا ذکر ضروری ہے۔ مشرق وسطی میں جنگوں کا ذکر ہو تو والد اور بیٹے، دونوں بش کا ذکر ضروری ہے۔

ہلیری کلنٹن اگر صدر بنتی ہیں تو ان کی پالیسی موجودہ امریکی پالیسی سے کتنی مختلف ہو گی اور اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کیا ہو گی؟

ہلیری کلنٹن بطور صدر امریکہ کے عالمی کردار کو جاری رکھنا چاہیں گی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی 'پہلے امریکہ' پالیسی میں امریکہ کا عالمی امور میں کردار ایسا نہ ہو گا جیسا اب ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ تعلقات کو کاروباری مفادات کی نظر سے دیکھتے ہیں اوروہ برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ امریکہ کو ایسے معاہدوں کی پاسداری نہیں کرنی چاہیے جہاں سے اسے کوئی کارروباری فاہدہ نہ ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے تاریخی معاہدوں کو چھوڑ دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو ان بقول ان کے امریکہ پر بوجھ بن چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے بلقان ریاستیں امریکہ سے توقع نہ کریں کہ روسی حملے کی صورت میں امریکی فوج ان کو بچانے کے لیے آئے گی۔

نیٹو

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ اور نیٹو ممالک کے تعلقات سے بھی انتہائی ناخوش ہیں اور وہ نیٹو کو بوسیدہ اور نارکاہ معاہدہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیٹو امریکہ کی سخاوت پر پل رہا ہے اور اگر یورپ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہا تو وہ اس معاہدہ سے نکلنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ انھوں نے بلقان ریاستوں کے بارے میں کہا کہ اگر انھوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو امریکہ سے توقع نہ رکھیں کہ روسی حملے کی صورت میں امریکی فوج ان کو بچانے کے لیے آئے گی۔

نیٹو کے بارے میں امریکہ میں ایسے جذبات کوئی نئی بات نہیں۔ صدر باراک اوباما بھی یورپ کی طرف سے اپنی مالی ذمہ داریاں نہ نبھانے پر تنقید کر چکے ہیں لیکن انھیں نیٹو کے ساتھ تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔

صدر اوباما کی طرح ہلیری کلنٹن بھی نیٹو سے اپنے تعلق کی قدر کرتی ہیں اور ان کے خیال میں نیٹو پر امریکہ کی سرمایہ کاری سب سے اچھی سرمایہ سمجھتی ہیں۔

ہلیری کلنٹن کہتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے ساتھ تعلقات پر سوالیہ نشان لگا کر خود کو صدارت کے لیے نااہل کر لیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بن کر اپنے کہے پر عمل کیا تو اس کا فائدہ روس کو ہوگا جو بے دھڑک اپنی پالیسیاں آگے بڑھائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیموکریٹ امیدوار کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ نرم رویے کے حامی ہیں

روس

ہلیری کلنٹن نے بطور وزیر خارجہ روس کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے پر توجہ دی لیکن اپنی وزارت کے آخری ایام میں وہ ولادی میر پوتن کے سامنے ڈٹ جانے کی پالیسی کی حامی ہو چکی تھیں۔ ہلیری کلنٹن کی روس پر بداعتمادی اب بھی جاری ہے۔ ہلیری کلنٹن مانتی ہیں کہ امریکہ کو جہاں تک ممکن ہو سکے روس کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے لیکن وہ یوکرین اور شام میں روس کی مداخلت کی سخت مخالف ہیں اور سمجھتی ہیں کہ 'روسی جارحیت' کو روکنے لیے امریکہ کو اپنے اتحادیوں کی زیادہ مدد کرنی چاہیے۔

ڈیموکریٹ امیدوار کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ نرم رویے کے حامی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادی میر پوتن کو ایک مضبوط رہنما قرار دیتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے روس کے ساتھ کاروباری مراسم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور ان کے مشیروں کا بھی روسی کنکشن موجود ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ مل کر شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ سے لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر روس کا رویہ مناسب ہو تو وہ ہلیری کلنٹن اور صدر اوباما سے بہتر روس کے تعقلقات کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دولت اسلامیہ

دونوں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نام نہاد شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کو عالمی امن کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسے شکست دینا چاہتے ہیں۔

ہلیری کلنٹن صدر اوباما کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے دولت اسلامیہ پر فضائی بمباری کے ذریعے ان کے تیل پر قبضے کو ختم کرنے کی حامی ہیں۔

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت اسلامیہ کے بارے میں پالیسی میں الفاظ کا فرق ہے لیکن اصل میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں میں سے کوئی امیدوار بھی شام میں زمینی فوج بھیجنے کا حامی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام

ہلیری کلنٹن شام کی خانہ جنگی میں شریک ہونے کےبارے میں سوچ سکتی ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس کے مخالف ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ شام سے مہاجرین کا انخلا روکنے کے لیے وہاں نو فلائی زون کے حامی ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس کے لیے مطلوبہ سرمایہ تیل سے مالا مال عرب ممالک ادا کریں۔

ڈونلڈ ٹرمپ صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے سے زیادہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے کو اولیت دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کو شکست دے کر شام کے صدر کو اقتدار چھوڑنے پر قائل کیا جاسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ بشار الاسد دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں جبکہ ہلیری کلنٹن ان سے متفق نہیں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ شامی 'باغیوں' کی حمایت نہیں کریں گے اور سمجھتے ہیں کہ بشار الاسد کا تختہ الٹنے سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

ہلیری کلنٹن شام کے شہریوں کے تحفظ کے لیے نو فلائی زون کی حامی ہیں۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو امریکی طیاروں کا شام میں روسی اور شامی طیاروں سے سامنا ہوگا۔ ہلیری کلنٹن شاید شامی باغیوں کو بڑے ہتھیار مہیا کرنے پر بھی تیار ہو جائیں لیکن روس کی شام میں براہ راست مداخلت سے امریکہ کے آپشن انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں کوئی بھی روس کے ساتھ براہ راست جنگ کا حامی نہیں ہے۔

ایران

ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد ایران کے خلاف کسی براہ راست فوجی کارروائی کا امکان بہت ہی کم ہے۔

ہلیری کلنٹن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حامی ہیں لیکن وہ علاقے میں ایران کےبڑھتے ہوئےاثر کو کم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں جس کے تحت اسرائیل کی فوجی برتری کو برقرار رکھنا اور، عرب اتحادیوں سےتعلقات مضبوط بنانا شامل ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بدترین معاہدہ گردانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر ازسر نو بات چیت کرنا چاہیں گے۔ وہ اس معاہدے پر کس طرح دوبارہ بات شروع کر سکتے ہیں، اس کی وضاحت نہیں کرتے۔ ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ متفق ہیں کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنےکی کوشش کی تو فوجی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیل و فلسطین

امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کےبارے میں ڈیموکریٹ پارٹی میں بحث و مباحثہ جاری ہے کہ کیا امریکہ کو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنی چاہیے؟ لیکن ہلیری کلنٹن نے اس بارےمیں کبھی کچھ نہیں کہا۔ وہ خطے میں اسرائیل کی فوجی برتری کی حامی ہیں۔ ہلیری کلنٹن فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی منصوبے کی حامی ہیں۔ اسرائیل کے روزنامے یورشلم پوسٹ کے مطابق ہلیری کلنٹن نے بطور وزیر خارجہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے بہت کم دلچسپی ظاہر کی تھی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کو ہلیری کلنٹن کی پالیسی پسند ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر فلسطین کے مسئلے کے لیے بات چیت میں غیر جانبدارانہ رہنے کا خیال ظاہر کیا تھا لیکن بعد انھوں نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ دو ریاستی حل کی زبانی حمایت تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اسی وقت ممکن ہو سکے گا جب فلسطینی اسرائیل سے دائمی نفرت ختم کریں گے اور اپنے بچوں کو دہشت گرد بننے سے روکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

چین

امریکی عوام جس کو بھی وائٹ ہاؤس بھیجتے ہیں اسے چین کے ساتھ پیچدہ مگر انتہائی ضروری تعلقات ورثے میں ملیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کے بارے میں موقف خالصتاً تجارتی ہے۔ وہ چین کی طرف سے منڈیوں میں اضافی مال کی فراہمی اور کرنسی کی قدر میں کمی پر تنقید کرتے ہیں اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر چین نے امریکی تحفظات پر کان نہ دھرے تو وہ چینی مصنوعات پر 45 فیصد تک ڈیوٹی عائد کریں گے۔

چین کی بحیرہ چین میں پالیسی کے حوالے ان کا موقف ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ کی کمزوری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ہلیری کلنٹن جنھوں نے چین کے بارے میں امریکہ پالیسی کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ امریکہ کی 'ایشیا محور' پالیسی کو جاری رکھیں گی۔

ہلیری کلنٹن کہتی ہیں کہ چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھائیں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ چین نہ تو امریکہ کا دوست ہے اور نہ ہی حریف۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شمالی کوریا

نئے امریکی صدر کو ایسے شمالی کوریا سے واسطہ پڑے گا جو ایٹمی میزائل داغنے کی قابلیت حاصل کرنے کی راہ پر چل رہا ہے۔ شمالی کوریا کے بارے میں امریکہ کی موجودہ پالیسی اقتصادی پابندیوں اور بات چیت کے وعدوں کا امتزاج ہے۔

امریکہ شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر قائل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے جس کا برملا اظہار امریکہ کے انٹیلجنس چیف جیمز کلپر کر چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے بارے میں جارحانہ پالیسی کے حامی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر چین کا مکمل کنٹرول ہے اور اگر وہ صدر بن گئے تو وہ چین کے شمالی کوریا سے تجارت کو ناممکن بنا دیں گے۔

البتہ ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما سے براہ راست بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور یہ امریکہ کی موجودہ پالیسی سے مختلف ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جاپان کو اپنے دفاعی مقاصد کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز پر بہت تنقید ہوئی ہے۔

ہلیری کلنٹن کی پالیسی امریکہ کی موجودہ پالیسی سے زیادہ مختلف نہیں ہو گی۔ وہ اقوام متحدہ کے ذریعے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے اور اپنے اتحادیوں کے دفاعی کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھیں گی۔

اسی بارے میں