الیکشن ڈائری: ’صنفی تعصب کی امریکہ میں بھی کمی نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مومنہ مستحسن کے ساتھ فیس بُک لائیو

'صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ ہی بحیثیت خاتون یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آپ کتنی ہنرمند ہیں بلکہ سب کی نظریں ظاہری حسن پر ہی رک جاتی ہیں۔'

یہ کہنا تھا مومنہ مستحسن کا جن سے میری ملاقات مین ہٹن میں ہوئی۔

٭ مومنہ مستحسن کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو دیکھیے

٭ 'امریکہ میں اب پیار کم اور نفرت زیادہ ہے'

٭ الیکشن ڈائری: پستی کی نئی گہرائیوں کو چھوتی ’فائٹ ٹو فنش‘

24 سالہ مومنہ نے ویسے تو انجینیئرنگ اور ریاض میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے مگر کوک اسٹوڈیو کے حالیہ سیزن نے انھیں راتوں رات مشہور کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے پل یہ شہرت ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنی رہی۔

وہ کہتی ہیں 'میرے دوست اب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ میں ان کے پیغامات کا جواب نہیں دیتی کیونکہ میں سٹار بن گئی ہوں۔ لیکن میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں کہ میرے فون پر اتنے پیغامات آتے ہیں کہ میں اکثر اوقات اپنا فون دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’میرے والدین نے مجھے بہت حوصلہ دیا‘

وہ کہتی ہیں کہ عموعی تاثر کے برعکس ان کے والدین اس دباؤ سے نمٹنے میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔

'میں نے ان کی سب خواہشات پوری کر لی ہیں۔ پڑھائی بھی کر لی ہے، منگنی بھی، بس وہ میرے حوالے سے پریشان رہتے تھے۔ لیکن اب وہ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔'

ان کے مطابق امریکہ میں بھی صنفی تعصب پایا جاتا ہے۔ 'میں ایک لڑکی ہوں اور انجینیئر بھی اور اس شعبے میں اتنی خواتین نہیں ہیں تو یہ سوچ کہ یہ تو مردوں کا شعبہ ہے اور ایک لڑکی یہاں کام کر رہی ہے، ہر جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔'

اسی تناظر میں مومنہ نے صدارتی انتخاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'ہلیری کی کردار کشی کی ایک بڑی وجہ ان کا خاتون ہونا ہے جبکہ اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔'

ان کے مطابق ٹرمپ ساری وہ باتیں کرتے ہیں جو امریکن ڈریم کے خلاف جاتی ہیں اور وہ ہلیری کو اس لیے ووٹ نہیں دے رہیں کہ وہ انھیں پسند کرتی ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ٹرمپ کو صدر بنتے نہیں دیکھنا چاہتیں۔

مومنہ اپنی تمام تر شہرت کے باوجود بھی میڈیا سے کسی حد تک نالاں رہتی تھیں مگر اب وہ اس بارے میں حقیقت پسندانہ خیالات رکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'یہ سب شہرت کا حصہ ہے۔ جہاں اتنے لوگ آپ کو سراہتے ہیں وہی بعض ہراساں کرنے سے باز نہیں آتے۔'

بالی وڈ کے لیے گائیکی کرنے کے باوجود یہی وہ ڈر تھا جس نے مومنہ کو کئی برس تک کیمرے کے سامنے آنے سے روکے رکھا۔

ان کے مطابق 'سُر کی کوئی سرحد نہیں ہے اور جب بھی انہیں اچھی آفر آئی وہ انڈین فلموں کے لیے ضرور گائیں گی۔'

ہاں ان تمام لوگوں کے لیے جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا مومنہ فلم یا ڈرامے میں اداکاری کریں گی یا نہیں، بری خبر یہ ہے کہ ان کے خیال میں اداکاری ان کے بس کی بات نہیں۔

اسی بارے میں