موصل سے پسپائی اختیار نہ کریں: ابوبکر البغدادی

ابو بکر البغادی تصویر کے کاپی رائٹ IS VIDEO
Image caption اگر یہ پیغام صحیح ہے تو گذشتہ ایک برس کے دوران ابو بکر البغادی کی جانب سے جاری ہونے والا یہ پہلا عوامی پیغام ہے جو ان افواہوں کو دور کرتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اپنے سربراہ ابو بکر البغدادی کا ایک نیا آڈیو پیغام جاری کیا ہے جو اس کے بقول ان کے سربراہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

اگر یہ پیغام صحیح ہے تو گذشتہ ایک برس کے دوران ابو بکر البغدادی کی جانب سے جاری ہونے والا یہ پہلا عوامی پیغام ہے جو ان افواہوں کو دور کرتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراقی فوج پہلی بار موصل کے مضافات میں داخل، سخت مزاحمت کا سامنا

’عراقی فوج موصل میں گھر گھر لڑائی کے لیے تیار‘

عراقی افواج موصل کی حدود میں داخل

آڈیو پیغام میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ عراقی فوج کے خلاف موصل شہر کا دفاع کریں جو شدت پسندوں سے موصل کو دوبارہ واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے 'عزت سے اپنے موقف پر ڈٹے رہنا شرمندگی سے پسپا ہونے سے ہزارگنا زیادہ آسان ہے۔'

آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے ' پسپائی اختیار نہ کریں، اس مکمل جنگ اور عظیم جہاد نے ہمارے ایمان کو پختہ کیا ہے کہ انشا اللہ فتح ہماری ہی ہو گی۔'

دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغادی کے ٹھکانے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن کچھ حکام کا کہنا ہے کہ شاید وہ موصل میں شدت پسندوں کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے سربراہ کے صوتی پیغام کی حقیقت کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ابو بکر البغادی کی موت کے حوالے سے کئی برسوں سے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ گذشتہ سال بھی عراقی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے دو برس قبل موصل میں البغدادی کی خلافت کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب عراقی افواج کی موصل کے تین اہم محاذوں کی جانب پیش قدمی جاری ہے اور اس نے کرد پیشمرگاہ، شیعہ ملیشیا اور سنی عرب قبائلیوں کی مدد سے شہر کے مضافات میں موجود درجنوں دیہاتوں اور ضلعوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

عراقی فوج نے بدھ کو شہر کے مشرقی حصے پر واقع ضلع کوکجلی پر قبضے کے بعد وہاں کی گلیوں میں دولتِ اسلامیہ کے بچ جانے والے جنگجوؤں کو تلاش کیا۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ اس بات کے شواہد بڑھتے جا رہے ہیں کہ کچھ سنی ملیشیا قبائل دولت اسلامیہ سے تعلق کے شبہے مقامی مردوں اور لڑکوں کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں