ہوم ورک، والدین اور ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سپین میں ہزاروں والدین ان کے بچوں کو ملنے والے زیادہ ہوم ورک پر رواں ہفتے کے اختتام پر سرکاری سکولوں کے خلاف ہڑتال کرنے والے ہیں۔

نومبر میں 12 ہزار سکولوں کے طلبا سے کہا جائے گا کہ وہ اپنی ہفتہ وار چھٹیوں پر ملنے والے ہوم ورک نہ کریں۔

سپینش الائنس آف پیرنٹس ایسوسی ایشن (سی ای اے پی اے) نے اس ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہوم ورک بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

2012 کی تعلیمی رپورٹ کے ہوم ورک لیگ ٹیبل پر سپین بہت اوپر تھا۔

آرگنائزیشن فار اکنامک کو آپریشن اینڈ ڈویلوپمنٹ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق پی آئی ایس اے سے معلوم ہوا ہے کہ سپین میں بچے اور نوجوان ہر ہفتے ہوم ورک پر 6.5 گھنٹے صرف کرتے ہیں جبکہ دیگر 38 ممالک میں یہ شرح 4.9 گھنٹے ہے۔

سکولوں کی جانب سے دیے جانے والے ہوم ورک کے مطابق سپین پی آئی ایس اے کی 64 ممالک کی فہرست میں 11ویں نمبر پر ہے۔

پی آئی ایس اہے کی رپورٹ کے مطابق سپین میں طلبا کو دیے جانے والے گھر کے کام کی وجہ سے بھی ان کے نتائج پر کوئی خاص فرق دکھائی نہیں دیتا۔ روایتی طور پر ہسپانوی طلبا کے ریاضی، ریڈنگ اور سائنس میں نمبر کم ہی آتے ہیں۔

اس کے برعکس پی آئی ایس اہے کے مطابق فن لینڈ اور جنوبی کوریا دو ایسے ممالک ہیں جہاں طلبا کی کارکردگی سب سے بہترین ہے اور ان ممالک میں ہوم ورک پر صرف کیے جانے والا وقت تین گھنٹوں سے کم ہے۔

سپینش الائنس آف پیرنٹس ایسوسی ایشن کے صدر جاز لوئس پیزوس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ معلومات میں فرق کر سکیں اور یہ فیصلہ کر سکیں کہ کیا یاد رکھنا ہے اور کیا نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’معاشرہ کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے لیکن کلاس روم کا ماحول تبدیل نہیں ہوا ہے۔‘

ہوم ورک کے حوالے سے بحث صرف سپین میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں