امریکی اتحادی افواج کا دولت اسلامیہ کے ’دارالخلافہ‘رقہ میں آپریشن کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی اتحاد میں شامل کرد اور عرب افواج کا کہنا ہے کہ وہ شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی خود ساختہ 'خلافت' کے دارالخلافے رقہ پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کر رہے ہیں۔

سیرئین ڈیموکریٹک فورسز کا کہنا ہے کہ وہ یہ آپریشن شروع کر رہے ہیں جس میں انھیں امریکی اتحادیوں کی جانب سے فضائی مدد بھی حاصل ہو گی۔

اس آپریشن کو ’فرات کا غصہ‘ نام دیا گیا ہے۔

٭رقہ ڈائری: ’میرے شہر پر دولت اسلامیہ کا قبضہ‘

٭ رقہ ڈائری: ’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘

انھوں نے وہاں موجود عام شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ان مقامات سے دور رہیں جہاں اس وقت دولت اسلامیہ کے جنجگجو موجود ہیں۔

کرد اور عرب اتحادی ملیشیا رقہ شہر کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

یہ آپریشن ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دوسری جانب عراق میں دولتِ اسلامیہ کے سب سے مضبوط گڑھ موصل سے تنظیم کو نکالنے کے لیے امریکی اتحاد میں لڑنے والی عراقی افواج بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔

سیرئین ڈیموکریٹک فورسز میں زیادہ بڑی تعداد کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹس یعنی وائے پی جی ملیشیا کی ہے اور یہ گذشتہ دو سالوں کے دوران شمالی شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے اہم اتحادی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

شام کے پڑوسی ملک ترکی کے اس آپریشن میں حصہ لینے کے امکانات نہیں ہیں۔ کیونکہ ترکی کے خیال میں وائے پی جی شدت پسند تنظیم ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ رقہ کو چھڑوانے میں کردوں کا کردار قبول نہیں کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

خیال رہے کہ رقہ کو 2014 میں دولت اسلامیہ کی جانب سے ’خلافت‘ کا اعلان کرنے کے بعد سے اسے دارالحکومت قرار دیا گیا تھا۔

جبکہ دولت اسلامیہ نے رقہ شہر پر 2013 میں صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں سے قبضہ حاصل کیا تھا۔

خیال رہے کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے پروان چڑھنے میں رقہ پر قبضہ ایک اہم موڑ تھا۔

ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد اب بھی اس شہر میں مقیم ہیں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے عام شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں