موصل کے مضافات سے اجتماعی قبر دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شناخت نہیں ہوسکی کہ یہ لاشیں عام شہریوں کی ہیں یا سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی

شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے گڑھ موصل کی جانب پیش قدمی کرنے والے عراقی فوجیوں نے شہر کے مضافات میں واقع ایک قصبے میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے۔

عراقی فوج کے مطابق حمام اللیل قصبے میں ملنے والی اس اجتماعی قبر میں تقریباً سو لاشیں ہیں اور فرانزک ماہرین اب اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ابھی شناخت نہیں ہوسکی کہ یہ لاشیں عام شہریوں کی ہیں یا سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ پہلے بھی بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں کا قتلِ عام کرتی رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ گروہ کی جانب سے علاقے میں عام شہہریوں کا قتلِ عام کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اجتماعی قبر کا فرانزک ماہرین جائزہ لے رہے ہیں

اکتوبر 2016 میں عراقی افواج نے موصل کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کے لیے بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور عراقی فوجیوں کی جانب سے کی جانے والی پیش قدمی کے بعد دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شہر کے مضافاتی علاقوں سے پسپائی اختیار کرکے موصل منتقل ہو رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ موصل سے تقریباً 30 کلو میٹر دور فوجیوں کو ایک مقام سے شدید بو محسوس ہوئی جس کے بعد وہاں کھدائی کی گئی تو یہ اجتماعی قبر دریافت ہوئی۔

مقامی کونسل کے رکن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ قصبے پر حکومتی افواج کے قبضے سے پہلے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو علاقے میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کرتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک مقامی سکول ٹیچر نے بتایا ہے کہ اس نے بھی دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو عام شہریوں کو گرفتار کر کے عارضی جیل میں لیے جاتے دیکھا ہے جہاں سے انھیں رات کے وقت نکال کر قتل کر دیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں