ڈونلڈ ٹرمپ کون ہیں؟

1954: ٹرمپ کی جوانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب ڈونلڈ ٹرمپ 13 سال کے تھے تو ان کے والد کو ان کے کمرے میں ایک بٹن سے کھلنے والا ایک چاقو ملا اور انھوں نے فوراً ان کی اصلاح کے لیے انھیں ملٹری سکول روانہ کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ بیس بال ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے اچھے کھلاڑی ثابت ہوئے اور انھیں صفائي ستھرائي کے لیے 'نیٹ نیس اینڈ آرڈر' کا اعزاز بھی ملا لیکن ملٹری اکیڈمی میں وہ قریبی دوست بنانے میں ناکام رہے۔

انھوں نے 1964 میں سکول سے فارغ ہونے کے بعد گلیمر کی دنیا سے بہت زیادہ متاثر ہونے کے سبب ان کے ذہن میں فلم سکول جانے کا خیال مچلنے لگا۔ لیکن انھوں نے فورڈہم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پھر دو سال بعد پینسلوینیا یونیورسٹی کے وارٹن بزنس سکول منتقل ہو گئے۔

1971: مین ہیٹن میں کامیابی

کالج ختم کرنے کے تین سال بعد ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک شہر میں مین ہیٹن میں منتقل ہوئے۔ کوئنز سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو نیویارک کے امرا میں گھلنے ملنے میں شروع میں مشکل ہوئی لیکن انھوں نے بہت سے معماروں کو اپنی بے باکی اور جسارت سے حیرت میں ڈال دیا۔

انھوں نے ایک پیچیدہ ڈیل میں اپنے والد سے مالی امداد حاصل کرتے ہوئے سات کروڑ میں 42 ویں سٹریٹ پر واقع کموڈور ہوٹل خریدا۔ پھر انھوں نے اس عمارت کی از سر نو تعمیر کی۔ انھوں نے اسے دی گرانڈ حیات ہوٹل کے نام سے سنہ 1980 میں دوبارہ شروع کیا۔ یہ تجربہ بہت کامیاب رہا اور چونکہ ڈونلڈ نے 50 فیصد سود کی شرح رکھی تھی اس لیے پیسے ان کے پاس بڑی مقدار میں آنے لگے۔

1982: ٹرمپ ٹاور کی تعمیر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ ٹاور کی تعمیر میں بغیر قانونی دستاویزات والے پولینڈ کے مزدوروں نے اہم کردار ادا کیا

مین ہیٹن کے افق پر ٹرمپ ٹاور ایک نمایاں چيز ہے لیکن اس کی تعمیر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بہت سے تنازعات میں گھرے رہے۔ اس کی تعمیر میں بغیر قانونی دستاویزات والے پولینڈ کے مزدوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز نے اس جگہ موجود دو آرٹ ڈیکو کو منہدم کرنے کے لیے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن ایک بار جب 28 منزلہ عمارت تیار ہوگئی تو نیویارک کے میئر ایڈ کوچ سمیت سات سو مہمانوں نے مسٹر ٹرمپ کی پارٹی میں شرکت کی۔ جشن کے طور پر میڈیسن ایونیو پر 10 ہزار غبارے چھوڑے گئے۔ اس عمارت نے ٹرمپ کے نام کو مین ہیٹن میں مستحکم کر دیا اور وہ آج تک وہیں رہتے ہیں اور وہیں سے کام کرتے ہیں۔

یکم نومبر 1987: دا آرٹ آف دا ڈیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرمپ کی پہلی کتاب دا آرٹ آف دا ڈیل نومبر سنہ 1987 میں شائع ہوئی

ٹرمپ کی پہلی کتاب ’دا آرٹ آف دا ڈیل‘ نومبر 1987 میں شائع ہوئی جس میں قارئین کو ان کی کامیابی کے راز بتانے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ کتاب نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتابوں کی فہرست میں 48 ہفتوں تک رہی جن میں سے 13 ہفتے سرفہرست رہی۔ اس کتاب سے نہ صرف ٹرمپ کو رائلٹی کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی آمدنی ہوئي بلکہ ان کی شہرت بڑھ گئی۔ انھیں تجارت کے ہنر میں ایک عالمی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا اور انھیں اپنی محنت کے بل بوتے پر کامیاب ہونے والے شخص کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے لیے آمدنی چھت چھونے لگی۔ آنے والے دنوں میں انھوں نے ٹرمپ ایئرلائنز شروع کی اور سینکڑوں عمارتیں تعمیر کیں اور اتنا منافع کمایا کہ انھوں نے اپنی یاٹ خریدی جس کا نام ’ٹرمپ پرنسیس‘ رکھا۔

1990 کی دہائی میں دھچکہ

ٹرمپ کے لیے 1990 کی دہائی ان کی اہلیہ سے بہت ہی مہنگی طلاق پر ختم ہوئی کیونکہ ان کی اہلیہ کو ان کے معاشقے کا علم ہو گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی مالیات میں 1990 کی دہائی کی کساد بازاری کے سبب کمی آ‏ئی اور اس کی وجہ سے نیویارک کا ریئل سٹیٹ بازار بہت زیادہ متاثر ہوا۔ ٹرمپ دو تہائي قرضوں کے سود کی ادائیگی وقت پر کرنے میں ناکام رہے۔ 1991 میں اٹلانٹک سٹی میں ٹرمپ کے تاج محل نے دیوالیے کا اعلان کیا۔ پھر سنہ 1992 میں ٹرمپ پلازہ اسی راہ پر چلا اور ان کے تجارت کے ماہر ہونے پر سوالیہ نشان لگ گئے۔

ایک بار انھوں نے گلی سے گزرتے ہوئے ایک غریب آدمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے قرضوں کے سبب اس شخص سے 90 کروڑ ڈالر زیادہ غریب ہیں۔

1997: مس یونیورس اور واپسی کا ہنر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 1990 کی دہائی کے اوائل کے دھچکوں کے باوجود ٹرمپ نے اپنی زندگی کو راہ پر لانے کے لیے سخت اقدام کیے

1990 کی دہائی کے اوائل کے دھچکوں کے باوجود ٹرمپ نے اپنی زندگی کو راہ پر لانے کے لیے سخت اقدام کیے۔ انھوں نے اپنی یاٹ اور ٹرمپ ایئرلائنز کو فروخت کر دیا۔ غیر متوقع طور پر انٹرٹینمنٹ کے میدان میں قدم رکھا اور مس یونیورس کی فرنچائز خرید لی جس میں مس امریکہ اور مس ٹین امریکہ مقابلۂ حسن بھی شامل تھے۔ انھوں نے اپنی مالی پریشانیوں کے دوران اپنی دوسری کتاب ’دا آرٹ آف دا کم بیک‘ سے بھی فائدہ حاصل کیا۔ یہ کتاب بھی بیسٹ سیلر کی فہرست میں شامل رہی اور اس میں قرضوں سے باہر نکلنے، مارلا میپلز کے ساتھ مختصر (1993-97) ازدواجی زندگی کی پہیلیوں کی کہانی بیان کی گئی۔ ان سے ان کی دوسری بیٹی ٹیفینی ٹرمپ پیدا ہوئی۔

والد کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جون 1999 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے والد فرڈرک کرائسٹ ٹرمپ 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

جون 1999 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے والد فریڈرک کرائسٹ ٹرمپ 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ورثے میں انھوں نے تقریباً 250 سے 300 ملین ڈالر چھوڑے۔ ان کے جنازے میں 650 سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین دن ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو جان ایف کینڈی جونیئر کی جانب سے اس موقعے پر ایک تعزیتی خط بھی ملا جس میں کہا گیا تھا کہ 'چاہے آپ زندگی کے کسی بھی موڑ پر ہوں، والدین میں سے کسی کی موت آپ کو تبدیل کر دیتی ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بھائی فریڈ جونیئر کا خاندان میں اس وقت مشکلات میں تھا کیونکہ 1981 میں فریڈ جونیئر کی حد سے زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے موت کے بعد انھیں فریڈرک کرائسٹ ٹرمپ نے اپنی وراثت سے لاتعلق کر دیا تھا۔

2000: سیاست میں قدم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1999 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ریفورم پارٹی کے امیدوار بننے کی خوب کوشش کی

ہلیری کلنٹن کے خلاف صدارتی مہم یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ سنہ 1999 میں انھوں نے ریفورم پارٹی کے امیدوار بننے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپرا ونفری ان کی بہترین نائب صدارتی امیدوار ہوں گی۔ اس وقت ان کی پالیسیاں تھیں کہ وفاقی بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کے لیے انتہائی امیر افراد پر ایک دفعہ 14.25 فیصد ٹیکس لگایا جائے، 1964 سول رائٹس ایکٹ میں تبدیلی کر کے ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی سلوک ممنوع کیا جائے اور کمپنیوں پر زیادہ ٹیکس لگا کر صحت عامہ کے حکومتی پروگرامز کو فنڈ کیا جائے۔ تاہم فروری 2000 میں انھوں نے ریفورم پارٹی میں اندرونی کھینچا تانی کے باعث یہ کوشش ترک کر دی۔

ٹی وی سلیبریٹی: دی اپرینٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میں انھیں ہالی وڈ واک آف فیم میں ستارہ بھی ملا

سنہ 2000 میں ٹی وی ہدایتکار مارک برنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایک نئے فارمیٹ کے شو کی تجویز لے کر گئے۔ انھوں نے ایک ایسا شو کرنے کی تجویز کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ مختلف قسم کے ایگزیکٹو کردار ادا کریں۔ ’دی اپرینٹس‘ نامی اس شو سے ٹرمپ کو موقع ملا کہ وہ ایک مالیاتی شخصیت کے طور پر سامنے آئے اور انھوں نے اس شو کے ذریعے بہت زیادہ پیسے کمائے۔ دی اپرینٹس اس قدر کامیاب رہا کہ شو کے پہلے سیزن کی آخری قسط اس سال میں سپر بول کے بعد سب زیادہ دیکھا گیا شو رہا۔ 2007 میں انھیں ہالی وڈ واک آف فیم میں ستارہ بھی ملا۔

ٹرمپ یونیورسٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ یونیورسٹی میں گریجوئیٹ اور پوسٹ گریجوئیٹ پروگرام آفر کیے جاتے تھے

اپنی شادی کے چار ماہ بعد ہی ٹرمپ نے متنازع تعلیمی ادارہ ٹرمپ یونیورسٹی متعارف کروایا۔ اس یونیورسٹی میں گریجوئیٹ اور پوسٹ گریجوئیٹ پروگرام آفر کیے جاتے تھے جن میں ٹرمپ کی مالیاتی کامیابی کے راز سکھانے کا دعویٰ کیا گیا۔ طلبہ کی جانب سے مقدمات کے پیشِ نظر اس یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا۔ ان مقدمات میں الزام لگایا گیا تھا کہ یہ یونیورسٹی ایک جعلی سکیم ہے اور بغیر چارٹر کے یہ کمپنی خود کو یونیورسٹی کہہ کر قانون کی خلاف ورزی کر رہی تھی۔

2006: سکاٹ لینڈ میں گالف کورس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مقامی کونسل نے ٹرمپ کی جانب سے گالف کورس کے لیے اجازت نامے کی درخواست مسترد کر دی تاہم فرسٹ منسٹر ایلکس سالمنڈ کی مداخلت کے بعد 2010 میں اس کورس پر تعمیراتی کام شروع ہوگیا

2006 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ میں کچھ شہرت اس وقت حاصل کی جب انھوں نے سکاٹ لینڈ میں ایبرڈین شائر میں ایک گالف کورس خریدا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام انھوں نے اپنی سکاٹش والدہ کی یاد میں کیا۔ یہ پراجیکٹ ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا کیونکہ مقامی برادری اور ماحولیاتی آلودگی پر کام کرنے والے کارکنان کے ساتھ ان کے شدید اختلافات رہے۔ اگرچہ مقامی کونسل نے ٹرمپ کی جانب سے اجازت نامے کی درخواست مسترد کر دی تاہم فرسٹ منسٹر ایلکس سالمنڈ کی مداخلت کے بعد 2010 میں اس کورس پر تعمیراتی کام شروع ہوگیا اور یہ کورس 2012 میں کھول دیا گیا۔

2016 صدارتی انتخاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی صدارتی مہم پر خرچہ وہ اپنی جیب سے کریں گے

ٹرمپ ٹاور میں اپنی بیوی میلانیہ کے ساتھ ایسکلیٹر سے اترتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے کا اعلان کیا۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی صدارتی مہم پر خرچہ وہ اپنی جیب سے کریں گے تاکہ وہ عطیات دینے والوں کے زیرِ اثر نہ رہیں۔ انھوں نے میکسیکو سے امریکہ آنے والے تارکینِ وطن کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں سے بہت سے ریپسٹ اور منشیات فروش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں امریکی آئین کی دوسری ترمیم (عام شہریوں کے ہتھیار رکھنے کا حق) کو محفوظ رکھوں گا، ہمسایہ ملک میکسیکو کی سرحد پر دیوار بناؤں گا، اوباما کیئر کو منسوخ کر دوں گا، مسلمانوں کی امیگریشن پر پابندی لگاؤں گا اور امریکہ کے بین الاقوامی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کروں گا۔

اسی بارے میں