’لوگوں نے ٹرمپ کو نہیں بلکہ اپنے روزگار کو ووٹ دیے‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اپنی حریف ہلیری کلنٹن ہی کو شکست نہیں دی بلکہ تمام اندازوں، تخمینوں اور پیشن گوئیوں کو بھی مات دے دی ہے۔

ٹرمپ کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ صدارت کے لیے موزوں امیدوار نہیں ہیں۔ ان کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انھوں نے عشروں سے ٹیکس ادا نہیں کیا، انھوں نے عورتوں کا تمسخر اڑایا، ان کے درجنوں جنسی سکینڈل سامنے آئے، انھوں نے تارکینِ وطن کو ناراض کیا، مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا، میکسیکو والوں کو جنسی مجرم کہا، میڈیا کے خلاف جنگ لڑی، خود اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں سے مخالفت مول لی، وغیرہ وغیرہ۔

اس صورتِ حال میں مبصرین ان کی حیران کن فتح سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دے رہے ہیں۔

تو آخر انھوں نے ہلیری کلنٹن جیسی منجھی ہوئی سیاست دان کو شکست سے کیسے ہمکنار کر دیا؟

ماہرِ معاشیات اور سیاسی مبصر منظور اعجاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل ان انتخابات میں لوگوں نے ٹرمپ کو نہیں بلکہ اپنے روزگار کو ووٹ دیے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے امریکہ کے ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر ووٹ حاصل کیے ہیں جنھیں 'رسٹ بیلٹ' یا 'زنگ آلود پٹی' کہا جاتا ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں کئی عشرے قبل بھاری انڈسٹری قائم تھی لیکن امریکی معیشت کی سست رفتاری کی وجہ سے کارخانے رفتہ رفتہ دوسرے ملکوں میں منتقل ہو گئے اور یہ علاقے کھنڈر کا نمونہ بن کر رہ گئے۔ اس عمل کا نتیجہ لاکھوں لوگوں کی بےروزگاری کی شکل میں نکلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلیری کلنٹن کے حامی آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکے

اس پٹی میں مشی گن، اوہایو، وسکانسن اور پینسلوینیا جیسی ریاستیں شامل ہیں۔

منظور اعجاز کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں رہنے والے سفید فام قطار اندر قطار ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے کیوں کہ انھیں توقع ہے کہ چونکہ ٹرمپ خود ارب پتی بزنس مین ہیں اس لیے وہ اپنی کاروباری سوجھ بوجھ سے کام لے کر اس علاقے کی کاروباری سرگرمیاں بحال کر سکتے ہیں۔

یہی ٹرمپ کا انتخابی نعرہ بھی تھا، 'امریکہ کو ایک بار پھر سے عظیم بنا دو۔'

اس کے مقابلے پر ہلیری کلنٹن کو دو چیزوں نے سخت نقصان پہنچایا۔ ایک تو یہ کہ ان کی اپنی ہی جماعت کی جانب سے امیدواری کے متنمی برنی سینڈرز کے ساتھ انھیں طویل اور تند و تلخ جنگ لڑنا پڑی جس کے دوران برنی سینڈرز نے خاصی کامیابی سے کلنٹن کو 'بدعنوان نظام' کا حصہ ظاہر کر دیا۔

سینڈرز نے لوگوں کو باور کروا دیا کہ ہلیری کلنٹن چونکہ اسی نظام کی پیداوار اور اس کی تقویت کی ذمہ دار ہیں، اس لیے ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ ملک میں کوئی حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے ہلیری کلنٹن کے خلاف ای میلز معاملے کی تحقیقات عین وقت پر کھولنے سے بھی ہلیری کو زک پہنچی، اور لوگوں کا یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ سیاست دانوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رسٹ بیلٹ کے ووٹروں کی بھاری اکثریت نے ٹرمپ کو ووٹ دیے

’امریکہ عورت کو صدر بنانے پر تیار نہیں‘

دوسری جانب واشنگٹن میں مقیم سینئیر صحافی واجد علی سید کہتے ہیں کہ ان انتخابات میں ایک اور چیز بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکہ اکیسویں صدی میں بھی کسی عورت کو صدر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ سفید فاموں نے تو بڑی تعداد میں ٹرمپ کو ووٹ دیے، لیکن سیاہ فام اور دوسری اقلیتیں اس تعداد میں باہر نہیں نکلیں جس طرح سے انھوں نے اوباما کو ووٹ دیے تھے۔

واجد کی اس بات کی تائید ایڈیسن ریسرچ کی بعد از ووٹ سروے رپورٹ سے بھی ہوتی ہے۔ اس سروے کے مطابق ان انتخابات میں سفید فام امریکیوں نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر ٹرمپ کی حمایت کی۔

سروے کے مطابق سیاہ فام اور لاطینی امریکیوں نے اس جوش و خروش سے ہلیری کی حمایت نہیں کی جس طرح انھوں نے چار سال قبل اوباما کو ووٹ ڈالے تھے۔

ہلیری کلنٹن کے کیمپ کو توقع تھی کہ اس بار عورتیں بڑی تعداد میں سامنے آ کر انھیں ووٹ دیں گی کیوں کہ عام تاثر یہی تھا کہ ٹرمپ نے مہم کے دوران ایسے بیانات دیے ہیں جنھیں عورت دشمنی پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود سروے کے مطابق اس بار لگ بھگ اتنی ہی عورتوں نے کلنٹن کو ووٹ دیا جنھوں نے گذشتہ انتخابات میں اوباما کو ووٹ دیے تھے۔

امریکہ مزید منقسم

ایک چیز جو پہلے ہی واضح تھی اور ان انتخابات میں مزید کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر مزید منقسم ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ کے حامیوں کی خوشی دیدنی ہے

ان میں سے ایک تقسیم شہری اور دیہی کی ہے، شہری علاقے بڑی حد تک ڈیموکریٹ پارٹی کی حمایت کرتے ہیں لیکن دیہی حصوں کی بھاری اکثریت رپبلکن پارٹی کی حامی ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور خلیج سفید فام امریکیوں اور بقیہ تمام امریکیوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ سفید فاموں کی غالب اکثریت رپبلکن پارٹی کی حامی ہے، جب کہ سیاہ فام، لاطینی امریکی اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مہاجرین بڑی حد تک ڈیموکریٹ پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک اور تقسیم زیادہ تعلیم یافتہ اور کم تعلیم یافتہ ووٹروں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ کم پڑھے لکھوں کی بڑی تعداد رپبلکن ہے، جب کہ کالج کے سندیافتہ ووٹر زیادہ تر ڈیموکریٹ امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔

خامیاں بن گئیں خوبیاں

آخر کار ٹرمپ کی سیاسی ناتجربہ کاری، لاپروایانہ انداز اور کھری کھری سنا دینے جیسی 'خامیاں' ہی ان کی خوبیاں قرار پائیں اور ہلیری کلنٹن کو منجھا ہوا سیاست دان ہونے، طویل انتظامی تجربہ، نظام کی سمجھ بوجھ جیسے میدانوں میں جو برتری حاصل تھی، وہی بالاًخر ان کے گلے کا ہار بن گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں