ٹرمپ کی پالیسیاں جو دنیا بدل سکتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکہ کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی آسکتی ہے۔ مندرجہ ذیل پانچ ایسے معاملات ہیں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے تبدیلی کی پالیسیوں کا اعلان کر رکھا ہے۔

فری ٹریڈ

اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مجوزہ تجارتی پالیسیوں پر عمل کیا تو کئیدہائیوں میں امریکی تجارت کے انداز میں یہ سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ انھوں نے امریکہ، کینیڈا اور میکسکو کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے سمیت کئی فری ٹریڈ معاہوں کو ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ان کی وجہ سے امریکی نوکریاں ملک سے باہر گئیں۔ انھوں نے امریکہ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں رکنیت منسوخ کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے درآمدات پر اضافی ٹیکس (چین 45 فیصد اور میکسکو 35) لگانے کا بھی اعلان کر رکپا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پیرس میں طے پانے والے انسدادِ ماحولیاتی آلودگی کے معاہدے کو منسوخ کر دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ موسمی تبدیلی کے سلسلے میں پروگراموں کے لیے اقوام متحدہ کی تمام امداد بند کر دیں گے۔ کوئی بھی ایک ملک پیرس معاہدہ ختم نہیں کر سکتا مگر اگر امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہوتا ہے اور صدر اوباما کے داخلی سطح پر کیے گئے اقدامات کو روک دیتے ہیں تو ان سے معاہدے کو کافی نقصان پہنچے گا۔ ٹرمپ نے تیل کے نئے ذخائر کی تلاش کی بھی حمایت کی ہے۔

سرحدوں پر پابندیاں

امیگریشن کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں۔ اس لیے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کیا وہ اپنے بیانات پر قائم رہیں گے یا نہیں۔ انھوں نے میکسکو کی سرحد پر ایک دیوار کھڑی کرنے کے وعدے سے آغاز کیا تھا اور 11 ملین غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے اپنا موقف نرم تر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں سے صرف مجرموں کو واپس بھیجا جائے گا اور دیگر غیر قانونی تارکینِ وطن سے بعد میں نمٹا جائے گا۔ انھوں نے آخر تک موقف رکھا کہ سرحد پر دیوار کے لیے میکسکو پیسے دے گا۔

انھوں مسلمانوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی کا بھی اعلان کر رکھا ہے مگر بعد میں انھوں کہا کہ یہ ایک تجویز تھی نہ کہ پالیسی۔ اس کی جگہ انھوں نے چند ممالک سے آنے والے افراد کی شدید چھان بین کا اعلان کیا ہے مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان کے ذہن میں اس کام کے لیے کون سے ممالک ہیں۔

نیٹو

ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم پرانی اور ناکارہ ہے جس میں امریکہ کا فائدہ اٹھانے والے غیر شکر گزار اتحادی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اب ایشیا اور یورپ کے ممالک کی حفاظت کرنے کا مالی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ایک طرح تو وہ امریکہ کی جانب سے ماضی میں بھی ظاہر کیے گئے خدشات دہرا رہے ہیں کیونکہ نیٹو کے بہت سے ممالک قومی آمدنی کا کم از کم دو فیصد دفاعی اخراجات پر نہیں خرچ کرتے۔ ماہرین نے اس بات پر شک کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ امریکی خارجہ پالیسی کے اس ستون چھوڑ سکیں گے یا نہیں۔

روس

ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ روسی صدر پوتن کے ساتھ کشیدگی ختم کر سکتے ہیں اور ان کے خیال میں پوتن ایک طاقتور رہنما ہیں۔ تاہم انھوں نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش سے زیادہ کچھ پالیسی یا اقدامات کے بارے میں تفصیل نہیں دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر روسی مناسب رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ روسی حکام کی نظر میں صدر اوباما یا ہلیری کلنٹن سے زیادہ عزت کمائیں گے۔

اسی بارے میں