’بریکسٹ کی طرح ٹرمپ کی جیت بھی پیٹرن کا حصہ‘

پوتن تصویر کے کاپی رائٹ AP

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہونے پر دنیا کے رہنماؤں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔

روسی ایوانِ صدر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک پیغام ارسال کیا ہے جس میں انھوں نے روس اور امریکہ کے تعلقات کو بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی امید ظاہر کی۔

٭ امریکی صدر کا انتخاب: کب کیا ہوا

٭ امریکی صدر کا انتخاب: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اور عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجوں کے موثر جواب کے لیے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعمیراتی بات چیت کی ضرورت ہے جو کہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کا ایک خصوصی تعلق ہے جو کہ آزادی اور جمہوریت پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا ہم تجارتی، سکیورٹی اور دفاعی معاملات میں قریبی ساتھی ہیں اور رہیں گے۔

ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر کو ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ایران میں سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ’ایران اور امریکہ کے کوئی سیاسی تعلقات نہیں ہیں مگر یہ اہم ہے کہ مستقبل کے امریکی صدر اپنے ملک کے عالمی وعدوں کا پاس رکھیں اور ہم توقع کرتے ہیں عالمی برادری امریکہ کو اس پر مجبور کرے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جاپان کے وزیرِاعظم شنزو آبے نے امریکہ اور جاپان کے درمیان قریبی رشتے میں تواتر کا عہد کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ’آپ کو صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جاپان اور امریکہ ایسے اتحادی ہیں اور یہ رشتہ آزادی، جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی جیسے عقائد پر مبنی ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ٹویٹ میں ان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ وہ ترکی میں بغاوت کے پیچھے امریکہ میں مقیم فتح اللہ گلن کو ترکی کے حوالے کریں گے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹس میں ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم ٹرمپ کی جانب سے مہم کے دوران انڈیا کے بارے میں خیالات کو سراہتے ہیں اور امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے خواہاں ہیں۔'

ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کو بتایا 'ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب ٹرمپ کے گالف بڈی ہیں اور ان کی میز پر دونوں کی ایک تصویر ہے جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا ہوا ہے میرے پسندیدہ وزیر اعظم کے لیے۔'

سنگاپور کے وزیر اعظم نے ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بریگزٹ ریفرنڈم کی طرح ٹرمپ کی جیت ترقی یافتہ ممالک میں پیٹرن کا حصہ ہے جو معاشرے میں مایوسی اور موجودہ حالات کو تبدیل کرنے کی خواہش ہے۔‘

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگاپور، چین اور انڈیا پر امریکہ میں 'نوکریاں چوری' کرنے کا الزام لگایا تھا۔

دریں اثنا امریکہ میں فرانس کے سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر ٹویٹ کیا اور بعد میں اس کو ڈیلیٹ کر دیا۔ اس ٹویٹ میں لکھا تھا 'بریکسٹ اور اس انتخاب کے بعد کچھ بھی ممکن ہے۔ ہمارے سامنے دنیا تباہ ہو رہی ہے۔ سر چکرا رہا ہے۔'

اسی بارے میں