’نو گیارہ یا گیارہ نو؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلیری کلنٹن کے مایوس حامی

امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کا ہر ایک کو بے چینی سے انتظار تھا اور اس انتظار کے پسِ منظر میں نجانے کیوں ایک کھٹکا سا لگا تھا کہ کہیں یہ بریگزٹ تو نہیں ہو گا۔

اور برطانوی سیاستدان نائجل فراج بے شک غیب کا علم رکھنے کے دعوے دار نہیں مگر انھوں نے گذشتہ روز ان تمام شکوک و شبہات کو اور ہوا دی کہ شاید یہ امریکہ کا بریگزٹ ہی نہ ہو؟

اور سوشل میڈیا خوش نہیں ہے کم از کم جو ایک ظاہری نظر سے آپ کو ٹویٹس نظر آتی ہیں ان میں دکھ، غم، افسوس اور خوف کے جذبات کا غلبہ ہے۔

مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

سرل المائڈہ نے ٹویٹ کی کہ 'امریکہ آج رات صدمے میں نہیں ہے۔ امریکہ کی اکثریت آج رات جشن منا رہی ہے۔ جو صدمے میں ہیں وہ ایک واضح اقلیت ہیں۔'

اور اگر خوف کی بات کریں تو مرتضیٰ حسین کی ٹویٹ کہ 'میں جھوٹ نہیں بولوں گا کہ ایک ایسے ملک میں رہنا جہاں کروڑوں افراد ے آپ پر پابندی لگانے کے حق میں ووٹ دیا ہو بہت عجیب لگے گا۔'

گلوکار سولومن رے نے ٹویٹ کی کہ 'بریگزٹ اور ٹرمپ کی فتح ثابت کرتی ہے کہ بہت سارے چھپے نسل پرست لوگ ہیں جو اس بات کا اعتراف تو نہیں کرتے کہ وہ نسل پرست ہیں مگر اس کے لیے ووٹ ضرور دیتے ہیں۔'

اور دکھی ہونے والوں میں معروف گلوکار اور فنکار بھی شامل ہیں۔

معروف گلوکارہ شیر نے لکھا کہ 'ایسے لگتا ہے میرے خاندان میں کسی کی موت واقع ہو گئی ہو۔'

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے حق میں لکھنے والے بھی موجود ہیں جیسا کہ کسینڈرا نے لکھا 'مجھے کبھی بھی اس بات پر شک نہیں تھا کہ ٹرمپ جیتے گا۔ یہ صرف امریکی عوام ہی نہیں بلکہ مغربی تہذیب کی فتح ہے۔ شکریہ امریکہ۔'

مارک کیوبن نے لکھا 'ہم سب کو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک موقع فراہم کرنا چاہیے۔ اچھائی کی حمایت کرنی چاہیے اور اس سب کے خلاف جس سے ہم متفق نہیں لابی کرنا چاہیے۔ ہم سب سے بڑا تو کوئی نہیں ہے۔'

کولِن مک کے نے روس سے لکھا کہ ’روس میں ٹرمپ کے صدر بننے پر بہت اطینان کا سانس لیا گیا کیونکہ لوگ یہاں ٹرمپ کی کامیابی چاہتے تھے تاکہ جنگ نہ ہو۔‘

اور سوشل میڈیا پر ہی لوگ ٹرمپ کی کامیابی کو اعداد میں دیکھ رہے ہیں اور اس کا موازنہ ’گیارہ ستمبر‘ کر رہے ہیں۔ کیونکہ دونوں دنوں کے اعداد میں مماثلت بہت نمایاں ہے۔