معیشت پر صدر ٹرمپ سے پانچ سوالات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی تاریخ کے سب سے ڈرامائی سیاسی اپ سیٹ کے مکمل ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر بن جائیں گے۔

معیشت پر پانچ ایسے سوالات پیش خدمت ہیں جن کے جوابات نئے امریکی صدر کو دینا ہوں گے۔

کیا وہ مارکیٹ کو مستحکم کر سکتے ہیں؟

یہ سوال بظاہر غیر موزوں لگ رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ 20 جنوری سے پہلے تو اقتدار سنبھال نہیں سکتے اور دس ہفتے مارکیٹ کے حوالے سے ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے۔

تاہم اس سے فرار بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا کہ رائے عامہ کے اختتامی لمحات تک اقتصادی مارکیٹ میں ہلیری کلنٹن کی جیت کی بات ہو رہی تھی۔

اس خبر کے بعد کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر ہوں گے، عالمی بازار حصص کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ سرمایہ کاروں میں بھی کافی غصہ پایا جاتا ہے۔

ہر کوئی اکنامک پالیسی کے بارے میں جاننا چاہتا ہے جو کہ آئندہ سامنے آنے والی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا ٹرمپ انتظامیہ موجودہ تجارتی معاہدوں کو ختم کرنے والی ہے؟

صدر کے انتخاب میں ان کی مہم کا بھی بہت بڑا حصہ ہے جس میں انھوں نے موجودہ امریکی تجارتی معاہدوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان معاہدوں میں سب سے اہم شمالی امریکی فری ٹریڈ کا معاہدہ شامل ہے جس کے تحت قریبی پڑوسی ممالک کے ساتھ جن میں میکسیکو اور کینیڈا شامل ہیں ٹیرف فری تجارت ہوتی ہے۔

ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ان نئے معاہدوں پر دستخط نہیں کریں گے جن پر اوباما انتظامیہ اتفاق کر چکی ہے، جن میں ٹرانز پیسیفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) نمایاں ہے۔

اس سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے موجودہ تجارتی روابط کے فریم ورک کو سائڈ پر رکھنے کے امریکہ اور عالمی معیشت پر شدید نتائج مرتب ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا وہ فیڈرل ریزروو کی آزادی کو کم کریں گے؟

عالمی مالیاتی نظام کے لیے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران سب سے تشویش ناک پہلو ان کا امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزروو کی آزادی پر سوالات اٹھانا تھا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ فیڈرل چیف جینیت یلن نے ریٹس صدر اوباما کے حکم پر کم رکھے تھے، جو کہ بذات خود امریکی اور عالمی مالیاتی نظام پر حملہ تھا۔

خیال رہے کہ فیڈرل ریزروو خود مختار ہے اور وہ منتخب سیاستدانوں کے کنٹرول سے باہر رہ کر مانیٹری پالیسی مرتب کرتا ہے۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس مفروضے کا اظہار نہیں کرتے تو معاشی مارکیٹ میں ہر کسی کو اپنے تبدیل کرنا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ٹرمپ کیسے امریکی پیداوار میں اضافہ کریں گے؟

امریکی صدارتی انتخاب کے لیے آغاز کرتے ہوئے ان کا سب سے بڑا دعویٰ یہ تھا کہ وہ امریکی معیشت کو اس شرح نمو کو پر واپس لے جائیں گے جس گذشتہ دہائیوں نہیں تو کئی سالوں تک نہیں دیکھی گئی۔

جیسے ہی ٹرمپ اقتدار سنبھالیں گے تو ان پر شدید دباؤ ہوگا کہ وہ یہ سب کرنے کے لیے کیسے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

اوباما انتظامیہ ایک ایسی معاشی توسیع کر چکی ہے جسے اب کئی سال ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے معاشی منصوبے صدر اوباما سے بڑی حد تک مختلف ہیں، وہ تیزی سے ٹیکسوں میں کمی کرنا چاہتے ہیں خاص طور پر امیروں پر، لیکن یہ تو واضح ہے کہ ان کے پاس امریکی معیشت میں اضافے کا راز موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وہ کانگرس کے ساتھ کام کیسے کریں گے؟

ٹیکسوں میں کمی یا حکومت کے ساتھ فیڈرل کے تعلقات، یا پھر تجارتی معاہدوں پر ازسر نو غور کرنے کے لیے تمام صدور کے لیے کانگریس کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

رپبلکن پارٹی اب صدارت، ایوان اور سینیٹ کو سنبھالے گی لیکن ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ کے 18 ماہ قبل انتخابی مہم کے آغاز کرنے کے بعد سے کافی تقسیم ہو چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ان جیسے کئی سوالات کے جوابات کیسے دیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کیسے کانگرس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

اسی بارے میں