ہلیری کو ہرانے والے اپنے ہی تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Gilbert Carrasquillo
Image caption یہ الیکشن اقتصادی بحران نہیں بلکہ عوام کے مفروزوں اور خیالی اقتصادی بحران کا شکار ہوا۔ ہلیری کلنٹن عوام کے اسی خوف اور بے چینی کو سمجھ نہیں سکیں۔

امریکی صدارتی انتخاب 2016 نے دنیا کو دنگ کر کے رکھ دیا۔ رائے عامہ کے تمام جائزے الٹ پڑ گئے۔ سینکڑوں تجزیہ کاروں کے تجزیے غلط ثابت ہوئے۔ ٹرمپ کے حامیوں کے علاوہ دنیا بھر میں کچھ لوگ شرمندہ ہیں اور کچھ حیران۔

لیکن یہ سب ہوا کیسے؟

کوئی کہتا ہے ٹرمپ کی تحریک کے پیچھے اقتصادیات ہیں، کچھ کہتے ہیں سفید فام امریکیوں کے دلوں میں اقلیتوں کے لیے چھپی نفرت سامنے آ گئی ہے۔ کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ امریکیوں نے ہلیری کی نفرت میں ٹرمپ کو ووٹ دیے ہیں، ہلیری کلنٹن پر لوگوں کو اعتماد نہیں تھا، وہ عورت ہیں، ان کی شخصیت عام آدمی کے قریب تر نہیں تھی وغیرہ وغیرہ۔

ان تمام دعووں میں شاید تھوڑی تھوڑی حقیقت ہو۔ مگر ماہرین کی مہارت سے کچھ دل اٹھ گیا ہے۔ تو اس پہیلی کو پرانے طریقے سے پرکھتے ہیں۔

ووٹنگ کے نتائج کے پر نظر دوڑانے سے مجھے ہلیری کلنٹن کی ناکامی کی وہی وجہ واضح نظر آئی جو مدتوں سے سیاسی حریفوں کے درمیان فیصلہ کن عنصر بنتی ہے۔

وہ ہے آزادی امیدوار۔

اگرچہ عملی طور پر امریکہ میں دو جماعتی سیاسی نظام چلتا ہے مگر کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ اور آج یہی آزاد امیدوار ہلیری کلنٹن کو لے بیٹھے ہیں۔

دیکھیں امریکی صدارتی انتخاب میں الیکٹورل کالج کی وجہ سے امیدوار نتائج کا ریاست بہ ریاست جائزہ لیتے ہیں۔ مگر قومی سطح پر مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو آزاد امیدواروں کے ووٹ حاصل کرنے کی شرح ماضی کے انتخابات کے برعکس 2016 میں زیادہ رہی۔ 2012 کے صدارتی انتخاب میں آزاد امیدواروں 1.6 ووٹ ملے۔

اب تک کے آنے والے نتائج کے مطابق 2016 میں یہ شرح 4.8 فیصد تک پہنچ گئی۔

صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ اور کلنٹن کے اس کانٹے دار مقابلے جہاں پاپولر ووٹ میں ہلیری کو سبقت رہی، 4.8 فیصد جیت اور ہار میں فیصلہ کن فرق تھا۔

ماضی میں امریکی صدارتی انتخابات میں یہ شرح اس سے کہیں زیادہ رہ چکی ہے۔ مگر گذشتہ چار انتخابات میں یہ اتنا اہم عنصر نہ تھا۔ آزاد امیدواروں کی اہمیت کو اس بار تقویت کیوں ملی؟

اس سوال کا جواب ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح اور ہلیری کلنٹن کی ناکامی کا باعث بنا۔

امریکی عوام میں اس وقت بے بسی اور روایتی سیاستدانوں سے تنگ آ جانے کی کیفیت ہے اور ٹرمپ نے عوام کی نبض کو صحیح طریقے سے جانچنا۔

امریکہ ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ مغربی ممالک کے عوام کے ایک بڑے حصے میں بے چینی ہے، وہ خود کو بے بس سمجھ رہے ہیں۔ انھیں ایسے رہنما نہیں چاہیے جو انھیں مستقبل کی راہ سمجھائیں، بلکہ ایسے رہنما چاہیئیں جو ان کے موجودہ خوف و بے چینی کو اجاگر کریں۔

یہ خوف اور بے چینی کہاں سے آئی ہے؟

گذشتہ دو دہائیوں کے اہم ترین واقعات پر نظر دوڑائیں تو اقتصادی سطح پر 2007-08 کا عالمی مالیاتی بحران سامنے آتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کی جدت کے ذریعے جو عالمگیریت کا ایسا رجحان سامنے آتا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

2007-08 کے مالیاتی بحران کی پیچیدگیاں تو عام عوام کو سمجھ نہیں آئیں۔ ان کی نظر سے دیکھیں تو بیٹھے بیٹھے اربوں ڈالر معیشت سے غائب ہوگئے۔

گلوبلائزیشن کے اثرات تو ابھی ماہرین اقتصادیات کو پوری طرح نہیں پتہ تو عوام کیسے جاننے گے۔

یہی لاعلمی ان ممالک میں خوف اور تذبذب پیدا کر رہی ہے۔ اسی تذبذب میں عوام نے آزاد امیدواروں کی جانب دیکھا۔ ٹرمپ نے 2012 میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رامنی کو ملنے والے ووٹوں سے بہت زیادہ ووٹ نہیں لیے۔ مگر اس بے بسی نے ہلیری کی ملک میں حمایت کو نقصان پہنچایا۔

Image caption چینیوں کے خلاف تو 1882 میں امریکی حکومت نے چائنیز ایکسکلوژن ایکٹ تک پاس کر دیا

گلوبلائزیشن کے رجحان کی وجہ سے قومی آمدنیوں میں تو اضافے ہوئے ہیں مگر اس بڑھتی ہوئی آمدنی کا فائدہ عام لوگوں کو نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو ہوا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں کے خیال میں امریکہ اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ مگر اگر مجموعی آمدنی دیکھی جائے تو امریکہ کی فی کس آمدنی مسلسل آٹھ سالوں سے بڑھ رہی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے امریکہ میں بڑھتی بے روزگاری کا فائدہ اٹھایا، انھیں یہ دیکھنا چاہیے کہ بے روز گاری کی شرح 2008 سے مسلسل گر رہی ہے۔

اگر معاملہ امیگریشن کا ہے تو امریکہ آنے والوں کے خلاف نفرت کی یہاں ایک لمبی تاریخ ہے۔ امریکہ میں جرمن اور آئرش تارکینِ وطن کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں جاپانیوں کو کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ چینیوں کے خلاف تو 1882 میں امریکی حکومت نے چائنیز ایکسکلوژن ایکٹ تک پاس کر دیا۔ بیس سال پہلے ہالی وڈ کی ہر فلم میں دشمن روسی ہوا کرتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے نفرت اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے۔

تو اس خوف و ہراس اور لاعلمی کے عالم میں ووٹروں نے قیادت ڈھونڈی۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ خوف کی سیاست کر رہے تھے اور دوسری جانب ہلیری کلنٹن لوگوں کے غم و غصے کی عکاسی نہ کر سکیں۔

ایسے میں آزاد امیدوار لوگوں کے ضمیر پر پورا اترے۔ بہت سے لوگوں نے آزاد امیدوار کو صرف اس لیے ووٹ دیا تاکہ وہ دونوں روایتی امیدواروں کے خلاف احتجاج کر سکیں۔ انھی چند لوگوں کی حمایت نہ ملنے کی توقع ہلیری کلنٹن کو شاید نہیں تھی۔ ان میں شاید برنی سینڈرز کے بہت سے حامی بھی ہوں۔

یہ الیکشن اقتصادی بحران نہیں بلکہ عوام کے مفروضوں اور اقتصادی بحران کی خام خیالی کا شکار ہوا۔ اسی پر مبنی خوف کی سیاست کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے لاکھوں کی حمایت حاصل کی۔ ہلیری کلنٹن عوام کے اسی خوف اور بے چینی کو سمجھ نہیں سکیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں