شام کے شہر حلب میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں خوراک کی آخری کھیپ تقسیم کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے مشیر یان اینگلم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادارے کو امدادی خوراک کی فراہمی شروع نہیں ہوتی تو آئندہ ہفتے ان علاقوں میں محصور پونے تین لاکھ افراد کے لیے خوراک دستیاب نہیں ہو گی۔

انھوں نے فضا کے ذریعے ان علاقوں میں خوراک کے پیکٹ گرانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ گنجان آباد علاقوں میں ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔

یان اینگلم نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ حلب میں ادارے کی امدادی ٹاسک فورس نے اطلاع دی ہے کہ ان کے پاس موجود خوراک کی آخری کھیپ تقسیم کی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بازاروں میں اشیا کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی مایوسی بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا:'اس وقت حلب کے مشرقی حصوں میں خوفناک صورتحال ہے اور یہ مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ روس کا کہنا ہے کہ شہریوں اور باغیوں کو انخلا کا موقع دینے کے لیے تین ہفتوں کے وقفے کے بعد دوبارہ شہر پر جلد ہی فضائی حملے شروع کر دے گا۔'

حلب میں سرکاری سکیورٹی فورسز نے ستمبر میں باغیوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے روس کی فضائی مدد سے کئی علاقوں میں پیش قدمی کی اور اس کے جواب میں باغیوں نے اکتوبر کے آخر میں محاصرے کو توڑنے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی لیکن انھیں زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شہر کے مشرقی علاقوں میں کئی ہفتوں سے جاری لڑائی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 700 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی راکٹ حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں