سی پیک منصوبہ: ’تمام صوبوں کو اس کا حق دیا جائے‘

سی پیک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خیبر پختونخوا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کر رہی ہے

خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ پاک چین راہداری کے منصوبے کو متنازع ہونے سے بچایا جائے اور اس میں تمام صوبوں کو اس کا حق دیا جائے۔

جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام آل پارٹیز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اس منصوبے کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس منصوبے کو ملک کے لیے گیم چینجر سمجھتا ہے۔

اس اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی سیاسی جماعت صوبے کے حقوق خاص طور پر پاک چین راہداری کے حوالے سے کوئی بھی اجلاس طلب کرے گی تو تمام سیاسی جماعتیں اس میں شرکت کریں گی۔

اس اجلاس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ صوبے میں تمام سیاسی جماعتیں حقوق کے حوالے سے متفق ہیں اور وہ چین کے ساتھ اس منصوبے پر عملدرآمد چاہتے ہیں لیکن اس میں تمام صوبوں کو اس کے برابر کے حقوق دیے جائیں۔

اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں کے نمائندے شریک تھے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اس کانفرنس کے کوارڈینیٹر تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت پاک چین راہداری میں خیبر پختونخوا کو اس کا حق نہیں دیتی تو تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر تمام آئینی، قانونی سیاسی راستے استعمال کریں گے۔ جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد خان نے یہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام علاقوں کو اس منصوبے سے جوڑا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عدالت سے رجوع کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا

اس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ’صوبے کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عدالت سے رجوع کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں پاک چین راہداری کے حوالے سے ایک درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے انھیں اعتماد میں لیا جائے اور اس بارے میں جو معاہدے ہوئے ہیں انھیں منظر عام پر لایا جائے۔

اس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے اٹھائیس مئی کے اعلان پر عمل درآمد کیا جائے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صوبے کی تمام سیاسی جماعتیں ہر سطح پر احتجاج کریں گی۔

اس اجلاس میں جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ کے نمائندے مولانا گل نصیب نے مسلم لیگ کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے پر اعتراض مناسب نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کر رہی ہے اور اس صوبے میں کچھ سڑکوں کا اعلان کیا گیا ہے لیکن راہداری منصوبے کی دیگر مراعات اس میں شامل نہیں ہیں۔

اسی بارے میں