شامی شہر حلب میں بچوں کا ہسپتال فضائی حملے کا نشانہ بن گیا

حلب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کے تین ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر فضائی بمباری کا سلسلہ شروع ہوا ہے

شام میں اطلاعات کے مطابق حکومت کے طیاروں اور توپ خانے نے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقے میں ایک ہسپتال، بلڈ بینک اور ایمبولینس پر بمباری کی ہے۔

حلب میں بچوں کے ہسپتال بایان کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہسپتال کے تہہ خانے میں پناہ لی ہے اور وہ باہر نہیں نکل سکتے۔

شام کے صدر بشار الاسد کو امید کہ ٹرمپ اتحادی بن سکتے ہیں

شام کے شہر حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا دوبارہ آغاز

شام کے شہر حلب میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران حلب میں مارے جانے والے افراد کی تعداد 32 ہوگئی ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

منگل کے تین ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر فضائی بمباری کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اس جنگ بندی کا اعلان شامی حکومت کے اتحادی ملک روس نے کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ INDEPENDENT DOCTORS ASSCOCIATION
Image caption برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کے مطابق اس حملے میں کم سے کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کے مطابق اس حملے میں کم سے کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شامی طیاروں نے بدھ کو میزائل داغے، ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم گرائے گئے جب کہ توپ خانے کی مدد سے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دی انڈیپینڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بایان نامی بچوں کا ہسپتال اس حملے میں بری طرح تباہ ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SYRIA CIVIL DEFENCE
Image caption شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

تنظیم نے ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حاتم کے حوالے سے بتایا کہ وہ ہسپتال کے تہہ خانے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر حاتم کے بقول 'جہازوں کی پروازیں جاری ہیں، ہم باہر نہیں نکل سکتے تاہم خود کو کمرے میں محفوظ سمجھتے ہیں۔‘

شام کے شہری دفاع سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں طبی عملے کا ایک رکن بھی ہلاک ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حلب کے مغرب میں بھی فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے منگل سے حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

روس نے شام کے دیگر علاقوں میں سرگرم جہادی تنظیموں کے خلاف بڑے آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

شام میں موجود روسی بحری بیڑے سے لڑاکا طیاروں نے بحیرۂ روم کے مشرق سے پہلی بار فضائی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے منگل سے حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا

شامی افواج نے دو ہفتوں کے محاصرے کے بعد رواں برس 22 ستمبر کو حلب کے مشرق میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس کے بعد شامی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اور روس کے فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کو کئی مقامات سے دور دراز علاقوں میں دھکیل دیا تھا۔

شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے رواں برس 18 اکتوبر کو حلب میں عام شہریوں اور باغیوں کو حلب چھوڑنے کی اجازت دینے کے لیے فضائی حملوں کو روک دیا تھا تاہم بہت کم افراد نے اس پر عمل کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں کی فضائی بمباری اور شیلنگ کی وجہ سے حلب کے مشرق میں 700 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے تھے جب کہ راکٹ حملوں کی وجہ سے حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بھی سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں