موصل میں خراب موسم کی وجہ سے عراقی افواج کی پیش قدمی رک گئی

موصل تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی فوجیں شمال اور جنوب کی جانب سے تاحال شہر میں داخل نہیں ہو سکیں

عراق کے شہر موصل سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے عراقی فوجوں کی جانب سے ایک ماہ کے پہلے شروع کی گئی کارروائی میں خراب موسم کے باعث پیش قدمی روک دی گئی ہے۔

عراقی فوج کے ایک جنرل کا کہنا ہے بادلوں کی وجہ سے فضائی مدد فراہم کرنے والے ڈرونز اور طیاروں کی حدنگاہ محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں فوج موجود ہے ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب دولت اسلامیہ شدید مزاحمت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور بڑی تعداد میں نشانہ بازوں اور خودکش بمباروں کا استعمال کر رہی ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیش قدمی سست ہے لیکن اس میں تسلسل قائم ہے۔

خیال رہے کہ جون 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے موصل پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا اور عراق میں یہ دولت اسلامیہ کا آخری بڑا گڑھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنگ زدہ علاقے میں موجود تقریبا دس لاکھ کے قریب افراد کو خطرے کا سامنا ہے

دولت اسلامیہ کے خلاف اس کارروائی میں تقریبا 50 ہزار عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکار، سپاہی، پولیس، کرد پیشمرگا، سنی عرب قبائلی اور شیعہ ملیشیا شریک ہیں۔

اس آپریشن کے ابتدائی دو ہفتوں میں عراقی افواج نے سخت مزاحمت کے باوجود مشرق اور جنوب مشرق کی جانب سے تیزی سے قصبوں اور دیہاتوں پر اپنا قبضہ قائم کیا تھا۔

یکم نومبر کو سپیشل فورسز اور فوجی یونٹس شہر کے مشرقی جانب دو اہم مقامات سے داخل ہونے اور اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

اربیل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گالپن کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں کے بعد شہر کے مرکزی حصے کی جانب پیش قدمی سست ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق دولت اسلامیہ نے کسی کمزوری کا اظہار نہیں کیا اور وہ گنجان آباد علاقوں میں جہاں بکتر بند گاڑیاں استعمال نہیں کی جاسکتیں وہاں فوجیوں کے خلاف ماہر نشانہ باز اور بڑی تعداد میں خودکش بمباروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسند عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اور فوجیں شمال اور جنوب کی جانب سے تاحال شہر میں داخل نہیں ہو سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس کارروائی سے تقریبا 59 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن میں 26 ہزار کے قریب بچے ہیں

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مزاحمت کا یکدم خاتمہ نہ ہونے کی صورت میں موصل کی جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عراقی فوجوں کی جانب سے چھڑوائے گئے علاقوں میں شہری املاک جیسے کہ پانی اور بجلی کی سہولیات، سکول اور ہسپتالوں اور طبی سہولیات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

اس کارروائی سے تقریبا 59 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن میں 26 ہزار کے قریب بچے ہیں جبکہ جنگ زدہ علاقے میں موجود تقریبا دس لاکھ کے قریب افراد کو خطرات کا سامنا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں