عراق: شادی کی تقریب میں خود کش حملہ، 17 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلوجا میں ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے جسے دولت اسلامیہ نے قبول کیا ہے

عراق میں حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد کے مغرب میں ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے خود کش کار بم دھماکے میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے فلوجا کے قصبے میں ہونے والی شادی کی ایک تقریب میں مقامی سنی مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

موصل میں خراب موسم کی وجہ سے عراقی افواج کی پیش قدمی رک گئی

خیال رہے کہ اس علاقے کے نوجوان افراد سنی قبائل ملیشیا میں شامل ہوئے ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہی ہے۔

فلوجا میں ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے جسے دولت اسلامیہ نے قبول کیا ہے۔

اس سے پہلے پیر کو فلوجا کے شمال مغرب میں دو خود کش دھماکوں میں کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عراقی افواج نے رواں برس جون میں فلوجا کو دولتِ اسلامیہ سے 'مکمل طور پر آزاد' کروانے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب عراق کے شہر موصل سے دولت اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے عراقی فوجوں کی جانب سے ایک ماہ کے پہلے شروع کی گئی کارروائی میں خراب موسم کے باعث پیش قدمی روک دی گئی ہے۔

عراقی فوج کے ایک جنرل کا کہنا ہے بادلوں کی وجہ سے فضائی مدد فراہم کرنے والے ڈرونز اور طیاروں کی حد نگاہ محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں فوج موجود ہے ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

دریں اثنا دولت اسلامیہ عراق کے دوسرے شہر موصل میں شدید مزاحمت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور بڑی تعداد میں نشانہ بازوں اور خودکش بمباروں کا استعمال کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں