’ناکام بغاوت کے بعد ترکی فوجی افسران کی نیٹو ممالک میں پناہ کی درخواستیں‘

نیٹو تصویر کے کاپی رائٹ EPA

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ترکی میں جولائی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد فوجی افسران نیٹو ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ 'یہ بات درست ہے کہ کچھ ترکی فوجی افسران نے جو نیٹو کے کمانڈ سٹرکچر میں کام کرتے ہیں پناہ کی درخواست کی ہے۔'

ترکی میں حکام کے مطابق 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں تقریباً نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ بغاوت میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کے پاس 35 جہاز، 37 ہیلی کاپٹر، 74 ٹینک اور تین بحری جہاز تھے۔

یاد رہے کہ ترکی میں ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد 18 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی گئی تھی۔

پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66 ہزار افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیکریٹری جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افسران نے پناہ کی درخواستیں دی ہیں

سیکریٹری جنرل اتوار کو استنبول کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن ممالک میں ان ترکی فوجی افسران نے پناہ کی درخواست دی ہے ان کی درخواست کا فیصلہ وہ ملک ہی کرے گا۔

تاہم سیکریٹری جنرل نے نہ تو ممالک کے نام ظاہر کیے اور نہ ہی یہ ظاہر کیا کہ کتنے افسران نے پناہ کی درخواستیں دی ہیں اور پناہ کی وجہ کیا بتائی گئی ہے۔

جرمنی کی میڈیا کے مطابق جرمنی میں نیٹو کمانڈ کے تحت تعینات ترکی کے فوجی افسران نے پناہ کی درخواتیں دی ہیں۔

سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ ناکام بغاوت کے بعد سے ترکی نے نیٹو میں تعینات افسران میں کافی ردو بدل کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں