اب روس امریکہ مخالف پروپیگنڈا ختم کر دے گا؟

امریکہ روس تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی تھنک ٹینک کے مطابق جب تک ولادی میر پوتن اقتدار میں ہیں امریکہ کو قابلِ اعتبار ساتھی نہیں مل سکتا۔

امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات سرد جنگ کی نہج پر پہنچ چکے ہیں لیکن صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ فریقین حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

تاہم یوکرین اور اب حال ہی میں شام میں روس کی فوجی مداخلت کی وجہ سے صورتِ حال معمول پر آنا اتنی آسان نہیں۔

* شام میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا آغاز

* روس نے امریکہ کے ساتھ پلوٹونیم کا معاہدہ معطل کر دیا

* روس میں ٹرمپ کی کامیابی پر جشن کیوں؟

الیکشن سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے اور ان میں بہتری کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

شام میں روس کی جانب سے ایک بار پھر بمباری شروع کرنے سے مسائل میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی کمانڈر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں روس کو رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

روس ایک پروپیگنڈا جنگ میں شامل رہا ہے جسے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے دوران امریکہ کی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع کی جانب سے سماجی رابطوں کی سائٹس پر لکھا گیا کہ شام اور عراق میں امریکی فضائی حملوں میں عام شہری مارے گئے۔ یہ الزامات مفصل اور مخصوص تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption روس کی وزارتِ دفاع کی ٹویٹس کے ساتھ سٹیلائٹ تصاویروں میں ہونے والے حملوں کے مناطر دکھائے گئے

روس کی وزارتِ دفاع کی ٹویٹس کے ساتھ سٹیلائٹ تصاویروں میں ہونے والے حملوں کے مناظر دکھائے گئے۔

بی بی سی نیوز نے دونوں الزامات پر امریکہ فوج کا موقف جاننے کی کوشش کی۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا: ’اتحادی افواج کسی بھی فضائی حملے میں شامل نہیں تھیں۔‘

اسی طرح کے کئی الزامات روس کی جانب سے عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے ترجمان کرنل جان ڈورین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سب شام میں روس کی اپنی بلاتفریق بمباری سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا ایک حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسے اتحادی لیزر اور جی پی ایس کی مدد سے بالکل ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کرتے ہیں، ’جبکہ روس بڑے پیمانے پر بغیر رہنمائی والے بم استعمال کرتا ہے۔‘

ان الزامات میں سے بعض کو میڈیا میں کافی سنجیدگی سے لیا گیا اور روسی میڈیا نے امریکی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کے اثرات پر شبہات کا اظہار کیا۔

تاحال امریکہ واحد ملک ہے جس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

2014 سے شروع ہونے والی بمباری میں پینٹا گون کے مطابق کم از کم 119 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

لندن میں موجود این جی او ’ایئر وارز‘ کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہے۔ مقامی سطح سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 1841 افراد مارے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام میں روسی فضائی حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی

ایئر وارز کا کہنا ہے کہ اس کے مقابلے پر روسی بمباری میں 7004 سے 8960 کے درمیان لوگ مارے گئے ہیں۔ تاہم ماسکو نے اب تک تسلیم نہیں کیا ہے کہ اس کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکہ اور روس دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پروپیگنڈا جنگ میں کچھ سنجیدہ سوالات یہ ابھرتے ہیں کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ روس کے ساتھ تعلقات میں پل بنا پائے گی؟

واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے لیوک کوفے کا کہنا ہے کہ ’جب تک ولادی میر پوتن اقتدار میں ہیں امریکہ کو قابلِ اعتبار ساتھی نہیں مل سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے اب ان سے سبق سے سیکھنا چاہیے۔

اسی بارے میں