دنیا میں ریفرینڈم کا چلن کیوں بڑھ رہا ہے؟

پولنگ سٹیشن تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ریفرینڈم اکثر اس وقت کروائے جاتے ہیں جب سیاست دانوں میں کسی بڑی تبدیلی یا فیصلے کے لیے اعتماد کی کمی ہوتی ہے یا پھر وہ کوئی خاص مشن انجام دینا چاہتے ہوں

دنیا بھر میں ریفرینڈم کا چلن بڑھتا جا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ سے لے کر کولمبیا تک حکومتیں زیادہ تر اپنے بڑے فیصلوں کی تصدیق عوام کے مقبول ووٹوں سے کرنے میں یقین کرنے لگی ہیں۔

جون میں برطانوی رائے دہندگان نے جب یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے تب سے براہ راست جمہوریت، اور اس سے ہونے والے غیر متوقع نتائج، سے متعلق دلچسپی کی ایک لہر سی چل پڑی ہے۔

تو پھر وہ کیا محرکات ہیں جو عوام سے ان کے رائے لینے پر آمادہ کرتی ہیں؟

یونیورسٹی آف گلاسگو میں سینیئر لیکچرر ڈاکٹر مارکو گولڈانی کے مطابق ہم 'عصرِ حاضر کی نمائندہ جمہوریت کی حدوں اور بحرانوں کے شکر گزار ہو سکتے ہیں جس میں ووٹر اپنے سیاسی رہنماؤں کو اپنی زندگی اور احساسات سے بالکل کٹا ہوا پاتے ہیں۔‘

ریفرینڈم اکثر اس وقت کروائے جاتے ہیں جب سیاست دانوں میں کسی بڑی تبدیلی یا فیصلے کے لیے اعتماد کی کمی ہوتی ہے یا پھر وہ کسی خاص مشن کو انجام دینے کے لیے ہوتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والے برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے ریفرنڈم کو 'ڈکٹیٹروں اور متعصب سیاست دانوں کا آلہ' بتایا تھا۔

یہی الزام ترکی کے صدر طیب اردوغان پر بھی لگایا جارہا ہے جو حزب مخالف کے حامیوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ناکام بغاوت کے بعد جولائی میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی ہوئی تھی۔

مسٹر اردوغان ترکی میں موت کی سزا کو دوبارہ بحال کرنے، یورپی یونین کی رکنیت کے لیے بات کرنے یا منسوخ کرنے اور اپنی حمایت میں آئین کو تبدیل کرنے کے لیے ریفرینڈم کروانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر اردوغان ترکی میں موت کی سزا کو دوبارہ بحال کرنے، یورپی یونین کی رکنیت کے لیے بات کرنے یا منسوخ کرنے اور اپنی حمایت میں آئین کو تبدیل کرنے کے لیے ریفرینڈم کروانا چاہتے ہیں

عوام کے ووٹ کسی ایک خاص تحریک کے لیے توانائی کا سامان بھی فراہم کر سکتے ہیں جیسے کہ سکاٹ لینڈ کی نیشنل پارٹی (ایس این پی) نے برطانیہ سے الگ ہونے کے لیے مہم چلائی تھی۔

حالانکہ اس ریفرینڈم میں سکاٹ لینڈ کی عوام نے 44.7 فیصد کے مقابلے میں 55.3 کے ووٹ سے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا لیکن جب بھی سیاسی ماحول اس کے موافق سازگار ہو گا ایس این پی دوبارہ اس مسئلے پر ریفرینڈم کا مطالبہ کرے گی۔

دنیا کے مختلف خطوں میں رائے شماری کو تاریخی نوعیت کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کولمبیا نے حال ہی میں باغیوں کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی توثیق کے لیے ریفرینڈم کروایا تھا جس میں عوام نے حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ میں حکومت نے اسی عمل پر تقریباً ڈھائی کروڑ ڈالر اس لیے خرچ کر دیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قومی پرچم کو تبدیل کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

اب اٹلی کی حکومت آئندہ چار دسمبر کو ریفرینڈم کروانے والی ہے جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ملک کے وزیراعظم میتیو رینزی نے عوام کی رائے یہ جاننے کے لیے لے رہے ہیں کہ ایوان بالا کے سینیٹروں کی تعداد کو دوتہائی حد تک کم کیا جائے یا نہیں۔ یہ اس لیے کہ ایوان بالا کو منتخب حکومت کو برخاست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption کولمبیا نے حال ہی میں باغیوں کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی توثیق کے لیے ریفرینڈم کروایا تھا جس میں عوام نے حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا

سوئٹزر لینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں عوام کے رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے جہاں تقریباً سبھی فیصلے عوامی رائے سے کیے جاتے ہیں اور رواں برس میں وہاں اب تک ایسا 12 بار ہو چکا ہے۔

آئندہ ہفتے 27 نومبر کو وہاں پھر سے یہ پوچھنے کے لیے رائے شماری ہونے والی ہے کہ جوہری توانائی کی تنصیبات کو ختم کر دیا جائے یا برقرار رکھا جائے۔

فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین نے عوام سے یہ وعدہ کیا ہے اگر وہ آئندہ برس کے عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آ گئیں تو وہ بھی فرانس کو یورپی یونین سے الگ ہونے کے لیے ریفرینڈم کروائیں گی۔

ہالینڈ کے بھی دائیں بازو کے متنازع رہنما گریٹ وائلڈرز، جو اسلام کے شدید مخالفین میں سے ہیں، نے امریکہ میں ٹرمپ کی جیت کے بعد ڈچ فریڈم پارٹی کو ایک نیا نعرہ 'نیدرلینڈ کو دوبارہ عظیم بناؤ' دیا ہے۔ اور وعدہ کیا ہے اگر وہ آئندہ مارچ کے انتخابات میں وزیراعظم منتخب ہوئے تو یورپی یونین سے رشتوں پر بات چیت کے لیے ریفرینڈم کروائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اٹلی کے وزیراعظم میتیو رینزی نے عوام کی رائے یہ جاننے کے لیے لے رہے ہیں کہ ایوان بالا کے سینیٹرز کی تعداد کو دوتہائی حد تک کم کیا جائے یا نہیں

انتخابی جائزوں سے عندیہ ملتا ہے کہ اگلے ہونے والے انتخابات میں ان کی پارٹی کے ارکان کی تعداد ایواں زیریں میں دوگنی ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں پچھلے عام انتخابات سے پہلے تین بڑی پارٹیاں لیبر، کنزرویٹیو اور لبرل ڈیموکریٹز یورپی یونین میں رہنے کی حامی تھیں لیکن جیسا کہ بریکزٹ ووٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا پونے دو کروڑ عوام کی رائے اس سے مختلف تھی۔

کنگز کالج لندن میں موجودہ برطانوی تاریخ کے ریسرچ پروفیسر ویرنن بیجنر نے بی بی سی کو بتایا کہ ' لوگ یہ محسوس کرتے ہیں بلا واسطہ جمہوریت موثر ہونے سے انھیں کافی دور کردیتی ہے۔ سیاسی جماعتوں اس کی سزا ملتی ہے اور کوئی ضروری نہیں کہ وہ عوام کی رائے کے مطابق ہی کام کر رہی ہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپ میں اگر دائیں بازو کے رہنما اقتدار مین آتے ہیں تو کئی اشوز پر ریفرنڈم کی توقع ہے

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پرفیسر جیسن برنین کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کھیل کے منچلے مداحوں کی طرح ہوتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'لوگ اس وقت ریفرنڈ کو پسند کرتے ہیں جب ان کی ٹیم جیتتی ہے اور جب ان کے موقف کی تائید نہیں ہوتی تو وہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ جب ان کی ہار ہوتی ہے تب وہ کہتے ہیں اسی لیے تو ہماری نمائندگی کے لیے پارلیمان ہے۔'

لندن کنگز کالج میں نفسیات کی پروفیسر امانڈا ہلز کا کہنا ہے کہ چونکہ ریفرنڈم ایک فرد کی سیاست سے جڑنے اور اور اپنا خود کا مستبقل سنوارنے کے موقع فراہم کرتا ہے اس لیے اس میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر پولنگ کے نتائج ان کے حق میں نہ ہوں تو نوجوان لوگ زیادہ فعال جاتے ہیں۔ 'اس روز وہ افسردہ ہوجاتے ہیں، وہ اس پر تبصرہ کرتے ہیں مایوس ہو جاتے ہیں پھر اس کے لیے کچھ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں

بی بی سی سے