100 وومن ایک بار پھر

اس سیزن کے تحت ہم اگلے تین ہفتوں تک پیش کریں گے خواتین کی غیر معمولی جرات مندی پر مبنی کہانیاں۔ اس میں سیاہ فام تحریک نسواں کا جائزہ لیں گے اور موسیقی، کھیل اور سیاست سے وابستہ ایسی قائدانہ صلاحیتوں کی خواتین سے بات کریں گے جن کے متعلق شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہو، اگرچہ ان کے پاس آپ کو بتانے کے لیے حیران کن کہانیاں ہیں۔

100 خواتین آخر ہے کیا؟

بی بی سی ہر برس دنیا بھر کی سو بااثر اور متاثر کن خواتین پر مبنی کہانیاں پیش کرتا ہے۔ دنیا بھر کی خواتین پر مرکوز پروگرام کے تحت ہم ایسی چنیدہ خواتین پردستاویزي فلم بناتے ہیں، ان پر فیچر کہانیاں لکھتے اور ان کا انٹرویو کرتے ہیں۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟

ہم ایسا اپنے تمام پروگراموں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے کے لیے کرتے ہیں اور خواتین ناظرین و سامعین کا اضافہ بھی اس کا ایک مقصد ہے۔

ہمارے اہم سوال یہ ہوتے ہیں:

جہاں آپ رہتے ہیں آخر وہاں 21ویں صدی میں خواتین کے ساتھ کیسا رویہ برتا جاتا ہے؟ امتیازی سلوک ہوتا ہے یا برابری کا؟

کیا سیاست اور تجارت میں خواتین اور اہم کردار ادا کریں گی یا پھر عالمی سطح پر ان کے لیے ایک حد مقرر ہے؟

آپ کی نظروں میں خواتین کو کون سے بڑے خطرے کا سامنا ہے؟ بڑے مواقع سے متعلق آپ کے خیالات کیا ہیں؟

اور ہاں میڈیا سے متعلق آپ کے خیالات کیا ہیں؟ کیا ہم خواتین سے متعلق غلط بیانی سے کام لیتے ہیں یا پھر ان کی کہانیاں ہم مناسب طریقے سے پیش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Elle UK
Image caption 100 وومن سیزن کے سلسلے میں گلوکارہ علیشیا کیز امریکہ میں نسل پرستی، اوبامہ کے بعد اور ٹرمپ سے پہلے کے امریکہ، فیمینزم، میک اپ، شہرت اور بچوں کی پرورش کے موضوعات پر بات کریں گی

ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی اپنے تبصروں، تاثرات اور خیالات کے ذریعے اس میں حصہ لیں۔ ایسا کرنے کے لیے آپ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر جا سکتے ہیں۔

ہیش ٹیک 100 وومن کو استعمال کر کے اپنی پسندیدہ پوسٹس اور اس سے متعلق اپنی کہانیاں شیئر کریں۔

یہ 100 وومن کا چوتھا سیزن ہے اور اس سال کسی بھی گزشتہ سیزن کی نسبت زیادہ کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں۔ 100 وومن سیزن کے سلسلے میں گلوکارہ علیشیا کیز امریکہ میں نسل پرستی، اوباما کے بعد اور ٹرمپ سے پہلے کے امریکہ، فیمینزم، میک اپ، شہرت اور بچوں کی پرورش کے موضوعات پر بات کریں گی۔

بی بی سی 100 وومن اس سال میکسیکو سٹی کے مرکز میں ایک فیسٹول بھی منعقد کر رہا ہے جس میں اور چیزوں کے علاوہ موسیقی، آرٹ، رقص اور مذاکرہ شامل ہے۔ اس موقع پر 100 وومن اینی میٹذ ورچل ریئلٹی ڈاکیومنٹری بھی ریلیز کی جائے گی جو ظلم کا شکار ہونے والی خواتین کے ذاتی تجربات پر مبنی ہے۔ اس کے ذریعے آپ اس خاتون کی کہانی کو ’محسوس‘ کر سکتے ہیں جس کو ایک منظم گروہ نے سمگل کیا ہے اور اسے ان کے چنگل سے چھڑایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ہونے والے مذاکرے کا موضوع ہے ’کیا فیمینزم میں تمام عورتیں شامل ہیں؟‘ جس میں کمبرلے ولیئمز کرینشا، ہیدر راباٹس اور گیل لیوئس اس بات کا جائزہ لیں گی کہ کیا فیمینسٹ تحریک بغیر کسی نسلی، قومی اور جنسی تخصیص کے تمام خواتین کو اپنے دھارے کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے یا نہیں۔

آئیے ملیے ’درختوں کی ماں‘ سے۔ ہم نے 105 سالہ خاتون سے بات کی جن کے ہاں اولاد نہیں ہے انھوں نہ انڈیا کے دیہی علاقوں میں بڑھ کے سینکڑوں درخت لگائے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔

سیزن کا اختتام ایک سوال سے کیا جائے گا: کیا انٹرنیٹ جنسی تفریق روا رکھتا ہے؟ وِکی پیڈیا دنیا کی ساتویں پسندیدہ ترین سائٹ ہے لیکن اس کی صرف 15 فیصد ایڈیٹرز خواتین ہیں اور اس پر چھپنے والے شخصی خاکوں میں سے 15 فیصد سے بھی کم خواتین کے ہیں۔

ہم وِکی پیڈیا کے ساتھ مل کر ایک 12 گھنٹے کی خصوصی مہم منعقد کر رہے ہیں جس میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ وِکی پیڈیا کو ایڈٹ کریں اور خواتین کے متعلق زیادہ سے زیادہ مضمون اور شخصی خاکے لکھیں۔ آٹھ دسمبر کو ہم چاہیں گے کہ آپ اس مہم کا حصہ بنیں، ہمارے ویب سائٹ پر آئیں، ایڈٹ کرنا سیکھیں۔ اس کا ہیش ٹیگ ہے 100 وومن وِکی۔

اسی بارے میں