شام میں محصور افراد کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باغیوں کے زیرِ قبضہ دمشق کو حکومتی فوج نے سنہ 2013 سے گھیرے میں لے رکھا ہے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس شام میں محصور افراد کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہنگامی امداد کے رابطہ کار سٹیفن او برائن کا کہنا ہے کہ چھ ماہ میں خانہ جنگی کا شکار شام میں محصور افراد کی تعداد چار لاکھ 86 ہزار 700 سے بڑھ کر نو لاکھ 74ہزار 80 ہو گئی ہے۔

٭ روس شام میں کیا کر رہا ہے؟

٭شام: روس نے حلب پر پھر بمباری شروع کر دی

انھوں نے کہا کہ شامی شہریوں کو محصور اور بھوکا رکھا جا رہا ہے انھیں طبی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مدد سے محروم رکھا جا رہا ہے تاکہ انھیں ہتھیار ڈالنے یا پھر فرار کی راہ اختیار پر مجبور کیا جائے۔

مسٹر او برائن کا کہنا ہے کہ یہ'جان بوجھ کر کیے جانے والی ظالمانہ' اقدامات ہیں اور زیادہ تر صدر بشارالاسد کی فوج کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ 'جنھوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے وہ جانتے ہیں یہ کونسل بظاہر اہلیت نہیں رکھتی یا پھر اپنی مرضی کو لاگو نہیں کرنا چاہتی یا پھر اب ان اقدامات پر راضی ہو گئی ہے جو انھیں روک سکتے ہیں۔'

یاد رہے کہ شام میں حال ہی میں محصور یا زیرِ قبضہ علاقوں میں باغیوں کے زیرِ قبضہ دمشق کے نواحی علاقے جوبر، حجر الاسود اور الشیح سمیت مشرق میں دارالحکومت سے باہر زرعی پٹی بھی شامل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اہلکار سٹیفن اوبرائن نے ادارے کو یہ بھی بتایا ہے کہ منقسم حلب شہر میں دو لاکھ 75 ہزار افراد باغیوں کے زیرِ قبصہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 18 اکتوبر کو حکومت اور اس کی اتحادی روسی فوج کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنا پر کی جانے والی عارضی جنگ بندی نے امید کی کرن دکھائی تھی لیکن گذشتہ منگل کو شہری علاقوں میں جہادی گروہوں اور باغیوں کی جانب سے کی جانے والی شیلنگ اور بمباری نے شہر اور اس کے مکینوں کو ایک بار پھر موت اور تباہی کی جانب موڑ دیا ہے۔

'گذشتہ دنوں میں آنے والی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں شہری مارے جا چکے ہیں، زخمی ہیں یا مشرقی حلب میں ہونے والے شدید حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق گذشتہ ہفتوں میں سینکڑں شہری مشرقی حلب میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہوئے

سٹیفن اوبرائن نے بتایا کہ اتوار کو باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہسپتال باقی بچا ہو جہاں طبی امداد دی جا سکتی ہو کیونکہ تمام طبّی مراکز کو بمباری کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رواں ماہ میں 350سے زیادہ مارٹر گولوں اور راکٹوں کے ذریعے حلب شہر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 350 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اتوار کو ہی ایک سکول میں ہونے والے حملے میں 18 بچے ہلاک ہوئے۔

سٹیفن اوبرائن نے سلامتی کونسل کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ مشرقی حلب میں صورتحال تباہ کن سے ہولناک ہو چکی ہے اور وہاں اب زندگی قائم رہنا مشکل ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ جولائی میں محصور ہونے والے شہریوں تک اقوامِ متحدہ کی جانب سے خوراک اور راشن کی سپلائی بند کر دی گئی تھی اور اسے گذشتہ ماہ تقسیم کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اتوار کو نشانہ ببنے والے سکول کی تنباہی کا منظر

اب کچھ ہی این جی اوز کے پاس تھوڑا سا راشن بچ گیا ہے جبکہ مقامی مارکیٹوں میں کھانے پینے کی اشیا ختم ہوتی جا رہی ہیں اور ان کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں۔

ادھر اتوار کو شامی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے اقوامِ متحدہ کے شام کے لیے نمائندہ خصوصی کی جانب سے دی جانے والی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر القاعدہ سے منسلک باغی علاقے سے نکل جائیں اور جنگ بند ہو جائے تو مشرقی حلب کو خودمختاری دے دی جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں