پیرس: نقاب پوش قطری خواتین سے 56 لاکھ ڈالر کی قیمتی اشیا لوٹ کر فرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پولیس کا کہنا ہے کہ پیرس کے شمال میں نامعلوم نقاب پوش افراد دو قطری خواتین سے 56 لاکھ ڈالر مالیت کی قیمتی اشیا لوٹ کر فرار ہو گئے۔

لوٹ مار کا یہ واقعہ پیرس کے شمال میں موٹروے پر پیش آیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو دو قطری بہنیں ایئر پورٹ سے نکلی ہی تھیں کہ نقاب پوش افراد نے ان کی گاری روکی اور انھیں نیچے اترنے کا کہا۔

نقاب پوش افراد نے قطری بہنوں اور اُن کے ڈرائیور پر آنسو گیس بھی پھینکی۔

پولیس ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'چور گاڑی میں موجود کپڑِے، زیوارت اور سامان سب لے گئے۔

یاد رہے کہ دو سال قبل سعودی شہزادے کو بھی ایئر پورٹ کے اسی راستے میں لوٹا گیا تھا۔

ذرائع نے فرانس کے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ 'خواتین کی گاڑی کو زبردستی سروس سٹیشن پر روکا گیا۔

موٹر وے کے اس حصے پر جہاں ڈکیتی کی یہ واردات ہوئی ہے، یہاں اکثر جرائم پیشہ افراد ٹریفک جام کے دوران قیمتی گاڑیوں اور بظاہر امیر دکھائی دینے والے افراد کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔

گذشتہ سال اپریل میں آرٹ کے نمونے جمع کرنے والے ایک شخص سے 40 لاکھ یورو مالیت کے زیوارت لوٹ لیے گئے تھے۔

اس سے پہلے اگست 2014 میں مسلح افراد کے گروہ نے سعودی شہزادے کے قافلے پر حملہ کر کے اُن سے ڈھائی لاکھ یورو لوٹ لیے تھے۔

گذشہ ماہ امریکہ ٹی وی سٹار کم کیردیشئن کو بھی پیرس میں اُن کے اپارٹمنٹ میں گن پوائینٹ پر لوٹا گیا تھا۔ ادکارہ کا کہنا تھا کہ مسلح شحض اُن کے زیورات کا ڈبہ بھی لے گیا ہے جس میں 60 لاکھ یورو مالیت کے زیوارت تھے۔

دوسری جانب رواں ماہ کے آغاز میں فرانس کی حکومت نے سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے خصوصی فنڈز کا اعلان کیا تھا اور پیرس کے اُن علاقوں میں جہاں ڈکیتی اور لوٹ مار کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں وہاں جاسوسی کے لیے نئے کیمرے لگانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں