پاکستانیوں کایورپ کا خطرناک خواب

ترکی

کمرے کے ایک کونے میں چولھے پر دیگچی میں کھانا بن رہا ہے اور تین نوجوان دو درجن کے قریب روٹیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ دیوار کے ساتھ بستر لگے ہیں جہاں 20 سے 35 سال تک کے نوجوان لیٹے یا بیٹھے ہیں۔ یہ سب پاکستانی تھے جو غیر قانونی طریقے سے استنبول پہنچے۔

یورپین سائیڈ پر گھریلو صنعت کی عمارت کی بالائی حصے میں واقعے دو ہال نما کمروں میں ان نوجوانوں کی رہائش ہے، یہاں 40 سے زائد نوجوانوں نے رہائش اختیار کر رکھی ہے ، جن میں سے 70 فیصد بیروزگار ہیں۔

یورپ کا پرخطرخواب

یہ تمام نوجوان زندگی اور موت کا سفر طے کر کے یہاں پہنچے تھے، محمد سلیم منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھتے ہیں وہ کراچی سے گوادر پہنچے اور تین سے چار گھنٹے مزید پیدل چلتے ہوئے ایک جنگل میں داخل ہو گئے۔ یہاں انھوں نے دو روز قیام کیا جس کے بعد ایک سپیڈ بوٹ پر تقریباً آدھے گھنٹے کا سفر کر کے تہران پہنچ گئے۔

تہران میں انھیں ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا اور دو روز کے بعد پہاڑی علاقے میں لے جایا گیا جہاں سے تین گھنٹے کا پیدل سفر کرکے وہ ترکی کے شہر دوکو بیاس پہنچے اور وہاں بھی انھیں سیف ہاؤس رکھا گیا اور بعد میں ایک گاڑی میں سوار کر کے استنبول پہنچا دیا گیا۔

چکوال کے رہائشی محمد یوسف کوئٹہ سے پنجگور پہنچے جہاں سے پیدل چل کر ایران پہنچے اور وہاں سے مزید تین دن کا سفر کر ترکی میں داخل ہو گئے۔

ان کے مطابق یہ بہت مشکل ہے، راستے میں کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں ایران کے سرحدی فورس فائرنگ کرتی ہے یا تیز دھار آلے سے زخم پہنچاتی ہے۔ اسی طرح ترک فورس بھی فائرنگ کرتی ہے۔

'ایک کار میں 16 لوگ سوار کیے جاتے ہیں اس سفر میں ایک ساتھی بیمار ہوگیا اور بعد میں فوت ہوگیا اس کو تہران سے باہر جنگل میں لے گئے جہاں لاش پھینک دی۔ یعنی نمازِ جنازہ، کفن و دفن نصیب نہیں ہوا چیل اور کوے لاش کو کھا گئے ہوں گے۔'

ترکی میں روزگار

استنبول میں مقامی مزدور کی اجرت 60 سے 70 لیرا جبکہ غیر قانونی تارکین وطن کی اجرت 30 لیرا ہے۔ سلیم کے مطابق یہاں کام ملنا مشکل ہے اگر مل بھی جائے تو پیسے نہیں دیتے۔ بقول ان کے یہاں اپنا پیٹ نہیں پلتا گھر کیسے بھیج سکتے ہیں۔ اس سے بہتر وہ پاکستان میں تھے جہاں لوہے کی فیکٹری میں کام کرتے اور 16 ہزار تنخواہ بنتی تھی۔

پاکستان میں سنا تھا کہ جو تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہے اس کو شاپنگ مال یا دکان میں ملازمت مل جاتی ہے لیکن یہاں آ کر پتہ چلا کہ ہوٹلوں میں برتن دھونے پڑتے ہیں، سروس سٹیشن یا ویلڈنگ کا کام کرتے ہیں۔ کافی لوگ تو کام لیتے ہیں مگر پیسے نہیں دیتے۔

پولیس کا مثبت رویہ

استنبول میں موجود یہ نوجوان منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالا، فیصل آباد اور چکوال سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اسی طرح کئی اور علاقوں میں پنجاب کے نوجوان رہے رہ ہیں۔

محمد اکرم کے مطابق یہاں کی پولیس بہت اچھی ہے وہ پکڑتی نہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ یہ پاکستانی ہیں وہ اتنا پوچھتے ہیں کہ کس طرح سے آئے ہو ہم انگلیوں سے اشارہ کرتے ہیں کہ پیدل آئے ہیں۔ اگر ترکی حکومت بے دخل بھی کرے تو اس کو فی بندہ 500 یورو دینا ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ ایک دن بھی نہ رکھیں۔

رہائش مشترکہ

جس روز ان نوجوانوں سے ملاقات ہوئی اس روز مسور کی دال بنی تھی اور عام طور پر دال، آلو انڈے اور کبھی کبھار مرغی بنائی جاتی ہے، اتوار واحد دن ہوتا ہے جب دو وقت کھانا بنتا ہے۔ یہ کمرے میس کی طرح چلتے ہیں جہاں 150 لیرا فی فرد کرایہ اور 50 لیرا ہفتے کے کھانے کا ادا کرتے ہیں۔

منور احمد نامی نوجوان نے بتایا کہ انھیں جگہ رہائشی علاقے میں نہیں بلکہ مضافات میں صنعتی علاقوں میں ملتی ہے جہاں گیس کی سہولت نہیں ہوتی۔ وہ جب کمرا لے لیتے ہیں تو مالک کو بتاتے ہیں کہ وہ چار لوگ رہیں گے لیکن زیادہ رکھ لیتے ہیں جس سے اخراجات تقسیم ہو جاتے ہیں۔

سفر رکتا نہیں

ان نوجوانوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب میں ملازمت کے لیے قسمت آزما چکے تھے۔ ہر کسی کے پاس ایک کہانی ہے کہ پولیس یا کسی اور محکمے میں بھرتی کے لیے گئے تو ان سے رشوت طلب کی گئی اور اس کے برعکس یہاں دو سے ڈھائی لاکھ روپے میں پہنچے۔

ان مشکلات اور بیروزگاری کے باوجود لوگوں کی آمد کا سلسلہ رک نہیں پایا۔ محمد عمران نے بتایا کہ 'یہاں ہفتے یا 15 روز میں ایک دن چھٹی ملتی ہے، اگر کوئی نیا لباس پہن کر تصویر فیس بک پر ڈالتا ہے تو اس کے دوست اور رشتے دار کہتے ہیں کہ تو وہاں عیاشی کر رہا ہے، موسم اور منظر بھی اچھے ہیں، ہم سے جھوٹ بول رہا ہے ۔'

یونان کا سفر

یہاں آنے والوں کی اگلی منزل یونان ہے، محمد عظیم نے بتایا کہ یونان میں موجود دوستوں نے بتایا ہے کہ ترکی سے وہاں حالات بہتر ہے۔ ’ایجنٹ سے بات کی ہے وہ 2 ہزار یورو مانگتے ہیں، وہ نہر کراس کرائیں گے اس کے بعد پیدل کا راستہ ہے بعد میں ایک ٹیکسی آ کر لے جائیگی اس طرح وہ اتھینز پہنچ جائیں گے دوسرا راستہ پیدل سفر ہے چار سے 5 روز لگ جائیں گے۔‘

ابھی ہم مشکلات سن رہے تھے تو موبائیل فون کی گھنٹی بجی اور بتایا گیا کہ ایک پاکستانی نوجوان کا انتقال ہوگیا ہے، دلاور نامی نوجوان نے بتایا کہ اسلام آباد کا ایک بندہ یہاں آکر بیمار ہوگیا اور کوما میں چلا گیا جس کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔ اس کی لاش واپس بہیجنے کے لیے 12 لاکھ رپے چاہیے دوستوں نے چندہ کرنے کو کہا ہے۔

اسی دوران ایک نوجوان پانی کی بوتل بجا کر کر پنجابی میں گاتا ہے۔

’قربان تھیواں جھڑے گھر توں دور ھن، غربت دے مارے قسمت تے چور ھن۔‘‎

اسی بارے میں