برطانوی قصبے کے رہائشی پورن کمپنیوں کے ڈائریکٹر کیسے بنے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلینڈ کے قصبے ڈرہم کے علاقے کانسیٹ کے رہائشیوں کو ان کے پتے پر ملنے والی ڈاک کو آگے بھیجنے کے لیے پیسے دیے جاتے تھے

خبر رساں ادارے روئٹرز کو تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ماضی میں جس قصبے میں سٹیل بنانے کا کام کیا جاتا تھا وہاں کے سینکڑوں افراد پورنوگرافی، ڈیٹنگ، ڈائٹس اور سفر سے منسوب کمپنیوں کے ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔

انگلینڈ کے قصبے ڈرہم کے علاقے کانسیٹ کے رہائشیوں کو ان کے پتے پر ملنے والی ڈاک کو آگے بھیجنے کے لیے پیسے دیے جاتے تھے لیکن ان کا کمپنیوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

ایک رہائشی جان میسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کردار کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ جبکہ سائمن ڈاسن جو ایک قانونی فرم میں کام کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سب کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا۔

شاٹلے برج سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ ڈاسن نے یورپ میں تجارت کے لیے برطانوی شرائط پوری کرنے کی غرض سے برطانیہ کے پتے، ڈائریکٹرز، کمپنی کے ریکارڈ اور ٹیکس کی معلومات فراہم کرنے کے لیے پوشیدہ کمپنیاں بنائیں۔

Image caption ڈاسن کا کہنا ہے کہ تمام ڈائریکٹر جانتے تھے کے انھیں اس مقصد کے لیے رکھا کیا گیا ہے

روئٹرز کی جانب سے کی جانے والے تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس علاقے میں کم از کم 429 افراد ایسے ہیں جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں لیکن انھیں ڈائریکٹر بننے کے لیے 50 پاؤنڈ ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اضافی کاغذی کارروائی کرنے اور کمپنی کی ڈاک آگے بھیجنے کے سالانہ 150 پاؤنڈز الگ سے دیے جاتے ہیں۔

جان میسن کو ان کے ایک پڑوسی نے بھرتی کروایا تھا جو پہلے ہی سے اس میں شامل تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں صرف اتنا کہا گیا تھا کہ ہمیں ملنے والے خطوط کو آگے بھیج دینا ہے۔‘

میسن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں ملنے والے پیسے کم تھے اور ہم چاہتے تھے کہ کچھ اضافی رقم مل جائے۔‘

ایک اور ڈائریکٹر اینڈریو میک برائڈ نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ انھوں نے کس چیز کے لیے ہامی بھری ہے، لیکن انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ انھیں مزید آگے بڑھنے سے قبل پتہ کر لینا چاہیے تھا۔

مسٹر ڈاسن کو فی پوشیدہ کمپنی کے لیے 2500 سے 3000 پاؤنڈز کے درمیان رقم ادا کی جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption ڈاسن اپنا کاروبار کانسیٹ بزنس پارک سے چلاتے تھے

انھوں نے بتایا کہ تمام ڈائریکٹروں کو کمپنیوں، ان کے کردار اور ان کاغذات کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی تھی جن پر ان کو دستخط کرنا ہوتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کوئی بھی نہیں جسے تاریکی میں رکھا گیا ہو۔‘

بعض ایسی کمپنیاں جو ان کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات استعمال کرتی تھیں، ان کی بھی تحقیقات کی گئیں۔ تاہم مسٹر ڈاسن یا کسی بھی ڈائریکٹر کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمہ یا پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔

انھوں نے اس حوالے سے بتایا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ جو وہ کر رہے تھے ’وہ غلط تھا یا شاید اچھا عمل نہیں تھا لیکن کسی بھی طرح سے غیر قانونی نہیں تھا۔‘

ڈاسن نے غیر تربیت یافتہ افراد کو بطور ڈائریکٹر استعمال کرنے کو ختم کرنے پر اتفاق کیا اور کہا کہ وہ کمپنیاں بنانے والے کاروبار کو ختم کر رہے ہیں۔

حکومت نے روئٹرز کی جانب سے اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست رد کر دی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں