مذاکرات نہ ہوئے تو یورپ تارکین وطن کے لیے تیار رہے: اردوغان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترکی میں اس وقت تقریباً 30 لاکھ تارکین وطن موجود ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تو وہ ہزاروں تارکین وطن کو یورپ سفر کرنے کی اجازت دے دیں گے۔

جمعے کو رجب طیب اردوغان نے یہ ردعمل یورپی پارلیمان کی جانب سے ترکی کے یورپی یونین کے رکن بننے کے حوالے سے مذاکرات روکنے کے ووٹ پر دیا۔

یورپی پارلیمان کے ارکان کو ترکی میں جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت پر رجب طیب اردوغان کے ’غیرمناسب‘ اقدامات پر تشویش ہے۔

مارچ میں یورپ اور ترکی کے درمیان معاہدے کے بعد سے یونان کے جزیرے پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

صدر اردوغان نے یورپی یونین پر وعدے توڑنے کا الزام لگایا ہے۔

مارچ میں ہونے والے معاہدے کے تحت ترکی کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کے شہریوں کو ویزا فری سفر کی اجازت دی جائے گی اور ترکی کے یورپی یونین کے رکن بننے کے لیے مذاکرات میں تیزی سے پیش رفت کی جائے گی۔

صدر اردوغان نے یورپی یونین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’میری بات سنیں، اگر آپ مزید آگے بڑھتے ہیں تو سرحدی دروازے کھول دیے جائیں گے۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی ترجمان اولریک ڈیمر نے کہا ہے کہ ’معاہدہ تمام فریقین کے مفاد میں تھا اور یہ دھمکی کسی کے لیے بھی مددگار نہیں۔‘

ترکی میں اس وقت تقریباً 30 لاکھ تارکین وطن موجود ہیں جن میں زیادہ تر شام سے آئے ہیں۔ گذشتہ سال دس لاکھ سے زائد تارکین وطن یورپ فرار ہوگئے تھے ان میں سے زیادہ تر ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں