ہالینڈ: برڈ فلو کے ڈر سے 190000 بطخوں کو ہلاک کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہالینڈ میں حکام نہ یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہلاک کی گئی بطخوں میں کونسی قسم کا برڈ فلو وائرس تھا

شمالی یورپ میں برڈ فلو کے پھیلنے کے خطرے کے پیشِ نظر ہالینڈ میں حکام نے 190,000 بطخوں کو تلف کر دیا ہے۔

ایمسٹرڈیم سے 70 کلومیٹر مشرق میں واقعہ بڈنحیوزن کے گاؤں میں برڈ فلو کے وائرس کے پائے جانے کے بعد چھ فارموں پر یہ کارروائی کی گئی۔

ڈینمارک، سوئیڈن، جرمنی اور فن لینڈ میں بھی ایچ 5 این 8 وائرس کی انتہائی وبائی قسم کچھ علاقوں میں پائی گئی ہے۔

ہالینڈ میں حکام نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہلاک کی گئی بطخوں میں کونسی قسم کا برڈ فلو وائرس تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے برڈ فلو پائے جانے والے مقام کے قریب تین کلومیٹر تک کے علاقے کے سارے فارموں میں وائرس کی جانچ کی جا رہی ہے اور دس کلومیٹر تک کے علاقے میں کسی بھی قسم کے پولٹری کو باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برڈ فلو وائرس پہلی مرتبہ 2014 میں جنوبی کوریا میں پایا گیا تھا۔ بعد میں یہ وائرس جاپان، شمالی امریکہ اور یورپ میں پھیل گیا اور متعدد پولٹری فارم اس سے متاثر ہوئے۔

برڈ فلو وائرس پہلی مرتبہ 2014 میں جنوبی کوریا میں پایا گیا تھا۔ بعد میں یہ وائرس جاپان، شمالی امریکہ اور یورپ میں پھیل گیا اور متعدد پولٹری فارم اس سے متاثر ہوئے۔

گذشتہ ماہ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ طویل فاصلوں تک پرندوں کی موسمیاتی ہجرت کی مانیٹرنگ سے برڈ فلو کے پھیلنے کے خطرے سے خبردار کیا جا سکتا ہے۔

متاثرہ جنگلی پرندوں کو چھونے یا ان کی بیٹھوں کے جسم سے چھو جانے سے اس وائرس کے پھیلنے کا امکان ہوتا ہے۔

کیا ہمیں پریشان ہونا چاہیے؟

اس وائرس کی بیشتر اقسام انسانوں پر اثر نہیں کرتیں۔ تاہم ایچ 5 این 1 وائرس کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں متاثرہ زندہ یا مردہ پرندوں کو چھونے سے واقع ہوئیں ۔

تاہم اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ صحیح سے پکے ہوئے کھانے سے یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔

اب تک ایچ 5 این 8 وائرس کے کوئی انسانی کیس سامنے نہیں آئے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنازیشن کا کہنا ہے کہ اس بات کو خارج از امکان نہیں کیا جا سکتا کہ ایچ 5 این 8 وائرس بھی انسانوں پر اثر کرتا ہو تاہم اس بات کے اب تک کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ جنگلی پرندوں اور بیمار پرندوں کو چھونے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے اور ایسی صورت میں صابن سے درست انداز میں ہاتھ دھو لینے چاہیئں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں