حلب کا بڑا حصہ بشار الاسد کی حامی فوج کے قبضے میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب شہر پر کافی عرصے سے باغی قابض تھے

شام کے سرکاری دستوں نے ملک کے مشرقی شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ قصبہ علاقے کے ایک تہائی حصے کو بازیاب کرا لیا ہے۔

شدید فضائی بمباری کی مدد سے سرکاری فوج کی پیش قدمی کو مبصرین صدر بشار الاسد کے مخالف مسلح باغیوں کے لیے ایک بڑی شکست قرار دے رہے ہیں۔

شامی فوج کی حلب میں پیش قدمی

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد کو صاف کر کے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ اختتام ہفتے کو شدید لڑائی کے بعد ہزاروں شہری محصور علاقوں سے نکل گئے ہیں۔ ہزاروں خاندان اسی علاقے میں بے گھر ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر کے قبضے کے لیے ایک عرصے سے لڑائی جاری ہے

تازہ ترین پیش رفت

باغی جنگجوؤں کو حلب کے ان علاقوں سے جن پر ان کا ایک طویل عرصے سے قبضہ تھا پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور سرکاری فوج کی مسلسل پیش قدمی جاری ہے۔

سرکاری ٹی وی اور برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ ضلع الصاخور پر بھی سرکاری فوج کا قبضہ ہو گیا ہے۔

سرکاری فوج کی الصاخور میں پیش قدمی سے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔

حلب کی گلی کوچوں اور محلوں میں ہونے والی لڑائی کی صحیح صورت حال کے بارے میں معلوم کرانا انتہائی مشکل ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کی لڑائی میں باغیوں کے ہاتھوں سے بڑا علاقہ نکل گیا ہے اور ماضی میں جس علاقے پر وہ قابض تھے اس میں سے صرف دو تہائی حصہ ان کے ہاتھوں میں رہ گیا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے شہر کے بارہ اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے اور باغیوں کے ہاتھوں سے چالیس فیصہ حصہ نکل گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پیر کو بھی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر شدید فضائی بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔

شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اس سال ستمبر میں حلب شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

حلب میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہوا؟

حلب شہر پر جب سے حملے شروع ہوئے ہیں شہریوں کی بڑی تعداد گھر بار چھوڑ کر ان علاقوں کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں جو یا تو سرکاری فوج کے قبضے میں ہیں یا ان پر کرد گروپوں کا قبضہ ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیرئن ابزرویٹری کا کہنا ہے کہ دس ہزار کے قریب لوگ یا تو سرکاری فوج کے زیر قصبہ علاقوں میں چلے گئے ہیں یا کرد کے زیر اثر شمالی ضلع میں منتقل ہو گئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہرے رنگ کی بسوں میں محفوظ علاقوں میں منتقل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔

حلب شہر کے شیخ مقصود کا علاقہ جس پر کرد گروپوں کا قبضہ ہے اور انھوں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے نکلنے والے شہریوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔

شامی کرد وں کی جماعت پی وائے ڈی نے روائٹرز نیوز ایجنسی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ چھ سے دس ہزار لوگ اس علاقے سے نکل گئے ہیں۔

مہاجرین کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کشمنر کے ترجمان سکاٹ کریگ نے بی بی سی کو بتایا کہ مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ان ڈھائی لاکھ افراد میں ایک لاکھ کے قریب بچے بھی شاممل ہیں۔

سکاٹ کریگ کا کہنا ہے کہ 'مشرقی حلب میں جو صورت حال ہے وہ ان لوگوں کے وہم و گماں سے باہر ہے جو وہاں موجود نہیں ہیں۔'

حلب شہر کے مشرقی حصے میں موجود سات سالہ بانا الباد جن کی ٹویٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں ہزاروں لوگ ان کی ٹویٹ کو دیکھنے والوں میں شامل ہو گئے ہے انھوں نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شہر کے مشرقی حصے میں واقع ان کے گھر پر بھی بم گرے ہیں۔

انھوں نے لکھا 'شدید بمباری جاری ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان ہیں، برائے مہربانی ہمارے لیے دعا کریں۔'

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ سٹیفن او برائن نے کہا کہ چھ دن قبل حلب پر شروع ہونے والی بمباری میں ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں