جرمن خفیہ ایجنسی کا اہلکار دولتِ اسلامیہ کے لیے کام کرنے کے الزام میں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جرمن اخبار دی ولت کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشتبہ اہلکار ایجنسی کے کلون میں واقع دفتر پر بم حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا

جرمنی کی خفیہ ایجنسی 'بی ایف وی' کے ایک اہلکار کو خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے لیے بیانات تیار کرنے اور ایجنسی کی معلومات کے تبادلہ کرنے کا الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے 'بی ایف وی' کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ جرمن اخبار دی ولت میں شائع ہونے والی اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکتے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشتبہ اہلکار ایجنسی کے کلون میں واقع دفتر پر بم حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

جرمنی میں مشتبہ شامی شدت پسند کی جیل میں خودکشی

انھوں نے بتایا کہ تاحال ابھی تک حقیقی خطرہ لاحق نہیں ہے تاہم اہلکار نے بتایا کہ ایک جرمن شخص کی حرکات مشکوک تھیں۔

گرفتار کیے جانے والے اہلکار پر الزام ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر فرضی ناموں سے دولتِ اسلامیہ کے لیے بیانات تیار کرتا اور چیٹ رومز میں ایجنسی کی معلومات افشا کرتا تھا۔

جرمن اخبار دی ولت کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کو ایجنسی کے ایک مخبر کی اطلاع پر گرفتار کیا گیا جس میں دونوں آن لائن بات چیت میں ممکنہ حملے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

خفیہ ایجنسی بی ایف وی نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ گرفتار ہونے والا اہلکار ایجنسی کے کس شعبے میں کام کرتا تھا تاہم جرمن میگزین در شپیگل کے مطابق اس شخص کو کچھ عرصہ قبل ہی جرمنی میں دولتِ اسلامیہ کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

در شپیگل کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اہلکار کے خاندان کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ 2014 میں اسلام قبول کر چکے ہیں۔

ملک کی داخلہ سکیورٹی پر نظر رکھنے والی ایجنسی بی ایف وی کے سربراہ نے نومبر میں روئٹرز کو بتایا تھا کہ اس وقت ملک میں 40 ہزار سخت گیر نظریات کے حامل مسلمان موجود ہیں۔

خیال رہے کہ جرمنی میں رواں برس شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور ان کے بعد ملک میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں اور کارروائیوں میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں