’حلب میں باغی دھڑے نئے فوجی اتحاد کے قیام پر رضامند‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغیوں کے زیر انتظام تقریباً 40 فیصد علاقے شامی افواج کے قبضے میں آگئے ہیں

اطلاعات کے مطابق مشرقی حلب میں حکومت کی حامی فورسز کی جانب سے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں دباؤ بڑھنے کے بعد بعض باغی دھڑے نئے فوجی اتحاد کے قیام پر رضامند ہو گئے ہیں۔

خیال کیا جا رہے کہ شام میں تقریباً دس مسلح گروہ ہیں جو اس معاہدے میں شامل ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ ان کے زیر انتظام باقی علاقوں کا بہتر انداز میں دفاع کر سکیں گے۔

حکومت کی حامی افواج نے گذشتہ چند دنوں میں اہم پیش قدمی کی ہے اور باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں سے تقریباً 40 فیصد علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شامی افواج کی مشرقی شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کے باعث کم سے کم 16 ہزار شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ سٹیفن او برائن کا کہنا تھا کہ حلب میں جاری لڑائی کے تیز ہونے اور پھیلنے کے خدشے کے باعث وہاں سے ہزاروں افراد کے فرار کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اس سال ستمبر میں حلب شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے کے اختتام سے لے کر اب تک شامی افواج اور ملیشیا نے ملک کے مشرقی شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ قصبہ علاقے کے ایک تہائی حصے کو بازیاب کرا لیا تھا۔

سیریئن آبزرویٹری کا گذشتہ ہفتے کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والے رہائشیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے اور وہ حکومت کے زیر کنٹرول مغربی علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں