امریکی سینیٹ سے ایران پر پابندیوں میں مزید دس برس کی توسیع کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی سینیٹ نے ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے ایکٹ میں مزید 10 سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

ان پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیان ایران کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتی ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں پابندیوں میں توسیع غیر ضروری اقدام ہے۔

’ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنا تباہ کن ہوگا‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں برس کے اختتام پر پابندیوں کی مدت ختم ہونی تھی اور اب پابندیوں کے ایکٹ کو سینیٹ سے 99 ووٹوں سے منظوری حاصل ہوئی ہے جس کے بعد یہ ایکٹ صدر اوباما کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

اس ایکٹ کو نومبر میں ایوان نمائندگان سے منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اب امید ہے کہ صدر اوباما اس پر دسختط کر دیں گے۔

تاہم نامہ نگاروں کے مطابق وائٹ ہاوس پرعزم ہے کہ پابندیوں میں توسیع کے نتیجے میں گذشتہ برس ایران سے جوہری پروگرام پر کیے جانے والا عالمی معاہدہ متاثر نہیں ہو گا۔

رپبکن اکثریتی کانگریس کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے ایکٹ میں توسیع سے ٹرمپ انتظامیہ کو اقتدار سنبھالنے پر زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے جن کے تحت ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی پر اسے سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

ایران پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں میں توسیع ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب دو دن پہلے ہی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خاتمہ 'تباہ کن' اور 'حماقت کی انتہا' ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کے قیام کا اشارہ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جان برینن نے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے ایران میں سخت گیروں کو تقویت ملنے کا خطرہ ہے اور دیگر اقوام بھی ایران کی ازسرنو کوششوں کے جواب میں جوہری پروگرام شروع کر سکتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر کو ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

'ایران اور امریکہ کے کوئی سیاسی تعلقات نہیں ہیں مگر یہ اہم ہے کہ مستقبل کے امریکی صدر اپنے ملک کے عالمی وعدوں کا پاس رکھیں اور ہم توقع کرتے ہیں عالمی برادری امریکہ کو اس پر مجبور کرے گی۔'

ایران پر پابندیاں سنہ 1995 میں صدر بل کلنٹن کے دور میں عائد کی گئی تھیں اور ان کے تحت امریکی کمپنیوں کو ایران میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں۔ امریکہ نے یہ پابندیاں ایران کے متنازع جوہری پروگرام اور اس پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے عائد کی تھیں۔

اسی بارے میں