نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو چیلنج کر دیا

امریکہ ووٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی تین ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔

انتخاب میں گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جل سٹین نے ریاست وسکونسن، پنسلوانیا اور مشی گن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی ہے اور اس کو روکنے کے لیے قانونی درخواستیں دائر کی ہیں۔

جل سٹین کا کہنا ہے کہ ان کی مہم میں توجہ امریکہ کے ووٹنگ نظام کی ایمانداری کو یقینی بنانا ہے۔

’صدارتی انتخاب میں لاکھوں غیر قانونی ووٹ ڈالے گئے‘

ہلیری کو ہرانے والے اپنے ہی تھے

انھوں نے اس کے ساتھ سوال بھی کیا کہ کیوں ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ گنتی سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اگر گنتی دوبارہ ہو بھی جاتی ہے تو اس بات کا امکان نہیں کہ انتخاب کے نتائج کو تبدیل کر دیا جائے گا۔

جمعے کو مشی گن میں رپبلکن کے اٹارنی جنرل بل شیوٹی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی کہ ریاست میں ممکنہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روک دیا جائے۔

اٹارنی جنرل بل شیوٹی نے کہا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے لاکھوں ڈالرز خرچ ہوں گے تاہم جل سٹین نے گنتی کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ جانے کے اقدام کو شرمناک کوشش قرار دیتے ہوئے اسے جمہوریت کو کمزور کرنے کا اقدام قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے نومنتخب صدر کی ٹیم نے مشی گن کے الیکشن بورڈ میں 48 لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روکنے کی درخواست جمع کرائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جل سٹین نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستیں جمع کرائی ہیں

مشی گن سے ٹرمپ دس ہزار سات سو ووٹوں سے جیت گئے تھے۔ نومنتخب صدر کے وکلا نے دلیل دی ہے کہ جل سٹین مشی گن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں کرا سکتی کیونکہ ریاست سے انھیں صرف ایک فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

مشی گن کے الیکشن بورڈ میں ٹرمپ کی درخواست پر ووٹ کرنے کے نتیجے میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے اور اگر قانونی مداخلت نہیں ہوتی تو ریاست میں منگل یا بدھ کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وسکونسن میں جمعرات کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع ہوا

ریاست وسکونسن کے الیکشن کمیشن میں گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جل سٹین نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست جمع کرائی تھی اور اس پر جمعرات کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور ایک ووٹر رونلڈ جانسن نے درخواست جمع کرائی تھی جس میں گنتی کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔

وسکونسن میں ٹرمپ کو اپنی حریف صدارتی امیدوار ہلیری پر صرف ایک فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

نومنتخب صدر کے وکلا نے پنسلوانیا میں جل سٹینکی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل روکنے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔

فیڈرل قوانین کے تحت ریاستوں کے پاس تنازعات کو حل کرنے کے لیے 13 دسمبر تک کا وقت ہے۔

ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر ٹرمپ کر حریف امیدوار ہلیری کلنٹن کی جانب سے کوئی بیان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں