سپین بل فائٹنگ کے بغیر کیسا لگے گا؟

بل فائٹنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بیلوں سے دوبدو لڑنے کی صدیوں پرانی روایت کے حامی کہتے ہیں کہ بل فائٹنگ کے بغیر سپین اپنے شاندار ثقافتی ورثے سے محروم ہو جائے گا۔

تاہم 21ویں صدی کے ایک ترقی یافتہ یورپی ملک کے بیشتر باسیوں کا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس روایت کا بوریا بستر لپیٹ دیا جائے۔

ایک ایسا ملک جو دنیا میں جس روایت کی بنا پر جانا اور پہچانا جاتا ہے، آج وہ اسی معاملے پر دو حصوں میں تقیسم ہو کر رہ گیا ہے۔

اس کے حامی کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ بل فائٹنگ کے مقابلوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے، یہ سپین کے قومی دھارے کا اہم ترین حصہ ہے۔ وہ ایک آئینی عدالت کے گذشتہ ماہ کے اس فیصلے پر گھی کے چراغ جلا رہے ہیں جس میں بل فائٹنگ کو سپین کے 'ثقافتی ورثے' کا حصہ قرار دے کر کیٹیلونیا خطے کی جانب سے بل فائٹنگ پر عائد کردہ پابندی معطل کر دی تھی۔

تاہم جانوروں کے حقوق کے داعی کہتے ہیں کہ ملک میں بل فائٹنگ کے بعض میلوں پر پابندی اور بعض شہروں کی جانب سے مقامی طور پر اس روایت کا سلسلہ ختم کرنے پر غور ان کی فتح کی علامت ہے۔

قدیم ثقافتی روایت

بل فائٹنگ کسی نہ کسی شکل میں رومن دور ہی سے سپین کی تاریخ کا حصہ رہی ہے، تاہم اس کی موجودہ شکل 18ویں صدی میں منظرِ عام پر آئی۔

سپین کی بل فائٹنگ یونین کے صدر ہوان دیاگو ویسینتے کہتے ہیں: 'یہ ایک ثقافتی روایت ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر میں اپنی زندگی کو بار بار خطرے میں ڈالتا ہوں، اس لیے اس روایت کو اس نازک دور میں احترام کی ضرورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

میڈرڈ سے تعلق رکھنے والے صحافی آندریس دی مگیل کہتے ہیں: 'یہ ایک میلہ ہے، قربانی کی رسم ہے۔ یہ ایک تماشا ہے، کاروبار ہے۔ یہ بےحد پیچیدہ روایت ہے جو تضادات سے پر ہے۔

'آپ بل فائٹنگ کے مقابلے میں ان نایاب لمحوں کا حسن دیکھنے جاتے ہیں جب بل فائٹر فنکار کے رتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اس تماشے کی خاطر اپنی جان جوکھم میں ڈال دیتا ہے۔'

کیا بل فائٹنگ رو بہ زوال ہے؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں صرف 9.5 فیصد ہسپانوی باشندوں نے بل فائٹنگ کے مقابلے دیکھے۔

جانوروں کے حقوق کی پرچار سیاسی جماعت پیکما کی سربراہ سلویا بارکیرو کہتی ہیں: 'ہمیں یقین ہے کہ بل فائٹنگ آخری سانسیں لے رہی ہے، جو پابندی کیٹیلونیا میں لگائی گئی تھی، وہ جلد ہی پورے ملک میں نافذ العمل ہو جائے گی۔'

جون میں ہونے والے عام انتخابات میں پیکما نے دس لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے، تاہم وہ کوئی نشست جیتنے میں ناکام رہی تھی۔

2007 میں سپین میں انسان اور بیل کے درمیان 3651 مقابلے ہوئے تھے، تاہم گذشتہ برس ان کی تعداد کم ہو کر 1736 رہ گئی۔

بل فائٹنگ کتنی اہم ہے؟

بارکیرو کہتی ہیں: 'معاشرے میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے۔ اب ہسپانوی اپنے آپ کو بل فائٹنگ سے منسلک نہیں کرتے۔ اس کے برعکس وہ اس عمل کو جانوروں کے حقوق کی بڑی پامالی سمجھتے ہیں۔'

تاہم اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ ہسپانوی شہریوں کی اکثریت بل فائٹنگ پر پابندی کی حامی ہے۔ اس موضوع پر 2010 میں ایک سروے کروایا گیا، جس میں 60 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ بل فائٹنگ کو پسند نہیں کرتے، تاہم صرف 42 فیصد نے کہا کہ وہ اس پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔

بل فائٹر ہوان دیاگو ویسینتے نہیں سمجھتے کہ یہ کھیل ظالمانہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ستمبر میں ہزاروں لوگوں نے بل فائٹنگ کے خلاف احتجاج کیا تھا

وہ کہتے ہیں کہ بل فائٹنگ میں حصہ لینے والے بیل چار برس تک بےفکری کی زندگی گزارتے ہیں۔ 'بہت سے لوگ جو بل فائٹنگ پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، وہ خود پنجروں میں پرندے رکھتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں کتے پالتے ہیں، ان کی دمیں اور ناخن کاٹ دیتے ہیں اور ان کی شناخت ختم کر دیتے ہیں۔‘

میڈرڈ میں رہنے والے بل فائٹنگ کے مداح ایک انگریز اینڈریو مور نے کہا کہ 'ہم نہیں چاہتے ہیں کہ جانوروں کو تکلیف ہو۔ ہم تلوار کے ایک ہی وار سے ان کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔'

تاہم وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جب تلوار سے جانور نہ مرے تو اس کھیل کو مزید ہمدردانہ بنانے کے لیے بجلی کے جھٹکے والا آلہ استعمال کیا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرتگال میں بیل کو ہلاک کرنا غیرقانونی ہے

سپین سے باہر کے ادارے بھی بل فائٹنگ پر اعتراض اٹھاتے رہتے ہیں۔ ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل/یورپ کی جوانا سواب کا خیال ہے: 'بیلوں کو تفریح کی خاطر طیش دلا کر ہلاک کر دینا وحشیانہ تاریخی روایت ہے جو جدید سپین کا غلط تاثر پیش کرتی ہے۔‘

ادھر سپین کے پڑوسی ملک پرتگال نے اس مسئلے کا ایک حل ڈھونڈ لیا ہے۔ وہاں بیل کو ہلاک کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور گھوڑے پر سوار بال فائٹر بیل کو جان سے مارنے کی بجائے خنجر پھینک کر صرف زخمی کر دیتا ہے۔

پرتگال میں بیل بچ جاتا ہے۔ سپین میں خود بل فائٹنگ کی روایت معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

اسی بارے میں