’برطانیہ اپنی مرضی کے معاہدے کی خواہش نہ رکھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ای یو چھوڑنے کا معاہدہ ضروری نہیں برطانیہ کی خواہش کے مطابق ہو

یورپ اور برطانیہ کے درمیان برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے معاملے پر ہونے والے متوقع مذاکرات کے لیے یورپی یونین کی مزاکراتی ٹیم کے سربراہ مائیکل بارنیئر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو اکتوبر 2018 تک اس سلسلے میں کوئی حتمی معاہدہ کرنا ہوگا۔

انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے وقت محدود ہے کیونکہ اگلے برس مارچ میں برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کے آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت ای یو کو چھوڑنے کے عمل کا آغاز متوقع ہے اور یہ عمل آئین کے تحت دو سال کے اندر مکمل کرنا ضروری ہے۔

ا ن کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پچاس افراد پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے تاکہ برطانیہ جب بھی آرٹیکل 50 کے عمل کا آغار کر تو ہم تیار ہوں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ برطانیہ اپنی مرضی کی ڈیل کی خواہش چھوڑ دے کیونکہ مذاکرات کے لیے وقت محدود ہوگا جس کے اندر فریقین کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔

مائیکل بارنیر کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کا ممبر ہونے کی وجہ سے آپ کو مخصوص حقوق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ وہ ممالک جو ای یو کا حصہ نہیں ہیں جیسے برطانیہ بھی نہیں رہے گا، ان ممالک کو ممبر ممالک جیسے حقوق کسی صورت میں نہیں مل سکتے۔‘

ان کے بقول سنگل مارکیٹ کا حصہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ افرادی قوت کی نقل وحرکت کی آذادی ہو اور کسی کی خواہش کے مطابق یہ اصول تبدیل نہیں کیے جاسکتے۔

اسی بارے میں