ابرینی کو رقم دینے والا برطانوی شہری مجرم قرار

زکریا بوفاسِل اور محمد علی احمد تصویر کے کاپی رائٹ West Midlands Police

پیرس اور برسلز میں دہشت گرد حملوں کے اہم کردار محمد ابرینی کو برمنگھم کے ایک پارک میں تین ہزار پاؤنڈ دینے پر ایک چھبیس سالہ شحص کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

ایک جیوری نے برمنگھم سے تعلق رکھنے والے زکریا بوفاسِل کو دہشت گردی کے عمل کی تیاری کے جرم میں سزا سنائی ہے۔

انھیں الزامات کا سامنا کرنے والے ایک دوسرے شحص محمد علی احمد نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

برطانیہ میں کنگسٹن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ محمد ابرینی کو یہ رقم جولائی 2015 کو ادا کی گئی۔

دونوں افراد کو 12 دسمبر کو سزا سنائی جائے گی۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ رقم ایک ایسے شخص کے بنک اکاؤنٹ سے نکلوائی گئی تھی جو پہلے ہی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑنے کے لیے برطانیہ سے شام روانہ ہو چکا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں زیادہ تر رقم وہ تھی جو حکومت سے بینیفٹس کے مد میں وصول کی گئی تھی۔

جیوری کو بتایا گیا کہ ابرینی اس سال مارچ میں برسلز میں ائیر پورٹ اور ریلوے سٹیشن پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث ہے جس میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Police Federale

حملے کے بعد جاری ہونے ہونے والی سی سی ٹی وی فٹیج کے بعد اسے ’ہیٹ والے شخص‘ کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

استغاثہ کے وکیل میکس ہِل نے عدالت کو بتایا کہ ابرینی پر مبینہ طور پر 13 نومبر 2015 کو پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے جس میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے جولائی 2015 کو ہونے والے میٹنگ کے بارے میں کہا کہ ’آپ کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ احمد، ابرینی اور مسٹر بوفاسِل میں اس دِن ملاقات ہوئے تھی -- اور یہ کہ اسی موقع پر ابرینی کو رقم کی ادائیگی کی گئی تھی۔‘

تاہم انھوں نے جیوری کو بتایا کہ ’ابرینی کو ادا کی گئی رقم کا اصل استعمال‘ کیس کا حصہ نہیں ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اپریل میں برسلز سے گرفتار ہونے والے محمد ابرینی نے ترکی کے راستے شام سے برطانیہ تک کا سفر کیا تھا۔

ایک ہفتے پر محیط اس دورے کے دوران وہ برمنگھم اور مانچسٹر میں واقع کئی جوا خانوں اور شاپنگ سنٹروں میں گئے تھے۔ اس دورے میں انھوں نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے اولڈ ٹریفورڈ فٹ بال سٹیڈیم کا بھی دورہ کیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ابرینی نے بیلجیئم کی پولیس کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ان کے برطانیہ کے دورے کا مقصد دہشت گرد حملوں کی تیاری کے لیے ریکی کرنا نہیں تھا۔

عدالتی کارروائی کے دوران بوفاسِل نے ابرینی سے پارک میں ملاقات کرنے کا اعتراف کیا لیکن اس بات سے انکار کیا کہ اس کا تعلق دہشت گردی اور اس کا فنڈنگ سے تھا۔

اسی بارے میں